رسائی کے لنکس

یونان: کشتیاں ڈوبنے سے 43 تارکینِ وطن ہلاک


فائل

فائل

حکام کے مطابق دونوں حادثے کلولمنوس اور فرماکونیسی نامی یونانی جزائر کے نزدیک پیش آئے جو بحیرۂ ایجئن میں ترکی کے ساحل کے قریب واقع ہیں۔

یونان کے ساحل کے نزدیک غیر قانونی تارکینِ وطن کی دو کشتیاں ڈوبنے کے نتیجے میں 17 بچوں سمیت 43 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

حکام کے مطابق دونوں حادثے کلولمنوس اور فرماکونیسی نامی یونانی جزائر کے نزدیک پیش آئے جو بحیرۂ ایجئن میں ترکی کے ساحل کے قریب واقع ہیں۔

یونان کے کوسٹ گارڈز کے ایک اہلکار نے ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ کلولمنوس کے نزدیک ڈوبنے والی کشتی پر درجنوں غیر قانونی تارکینِ وطن سوار تھےجن میں سے کم از کم 35 ڈوب کر ہلاک ہوگئے ہیں۔

اہلکار کے مطابق کشتی پر سوار 26 افراد کو زندہ بچالیا گیا ہے۔ تاحال یہ واضح نہیں کہ کشتی کیسے ڈوبی لیکن حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کے وقت علاقے میں تیز ہوائیں چل رہی تھیں جس کے بعد سمندر خاصا متلاطم تھا۔

کشتی پر سوار افراد کو بچانے اور لاشوں کی تلاش کے لیے امدادی سرگرمیاں کئی گھنٹوں تک جاری ہیں جن میں علاقے میں موجود ماہی گیروں کی کشتیوں نے بھی حصہ لیا۔

امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینے والے ایک یونانی ماہی گیر نے 'رائٹرز' کو بتایا ہے کہ کشتی پر سوار کئی افراد کا سراغ نہیں مل سکا اور وہ تاحال لاپتا ہیں۔

یونانی حکام کے مطابق غیر قانونی تارکینِ وطن سے بھری ایک اور کشتی جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب فرما کونیسی نامی جزیرے کے نزدیک سمندری چٹانوں سے ٹکرا کر ڈوب گئی۔

حکام کا کہنا ہے کہ حادثے میں چھ بچے اور دو خواتین ہلاک ہوئی ہیں جب کہ کشتی پر سوار 40 تارکینِ وطن تیر کر ساحل تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔

مہاجرین کی عالمی تنظیم کے مطابق رواں ماہ اب تک 37 ہزار غیر قانونی تارکینِ وطن سمندر کے راستے یورپ پہنچ چکے ہیں۔

ادارے کے مطابق یہ تعداد 2014ء اور 2015ء میں ماہِ جنوری میں سمندری راستے سے یورپ پہنچنے والے غیر قانونی تارکینِ وطن کی مجموعی تعداد سے چھ گنا زیادہ ہے۔

جنوری میں بحیرۂ روم خاصا متلاطم اور علاقے کا موسم انتہائی خراب اور سرد ہوتا ہے جس کے باعث اس علاقے میں بحری سفر انتہائی خطرناک تصور کیا جاتا ہے۔

لیکن خراب موسم اور زندگی کو لاحق خطرات کے باوجود خانہ جنگی کا شکار شامی مہاجرین کی بڑی تعداد بہتر مستقبل کی آس میں خستہ حال کشتیوں کے ذریعے ترکی سے یونان کا سفر کرنے کے لیےانسانی اسمگلروں کو بھاری رقوم ادا کرتی ہے۔

XS
SM
MD
LG