رسائی کے لنکس

بچت اقدامات کے خلاف یونان میں مظاہرے، جھڑپیں


بچت اقدامات کے خلاف یونان میں مظاہرے، جھڑپیں

بچت اقدامات کے خلاف یونان میں مظاہرے، جھڑپیں

مظاہرین نے شہر کی کئی سڑکیں مختلف اشیا کو آگ لگا کر بند کردیں اور پولیس اہلکاروں پر کاک ٹیل بم اور پتھر برسائے جن کا پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج سے جواب دیا

یورپی یونین کے مزید مطالبات اور حکومت کی جانب سے نئے بچت اقدامات کے اعلان کے بعد یونان میں احتجاج اور جھڑپوں کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہوگیا ہے۔

جمعہ کودارالحکومت ایتھنز میں مظاہرین اور پولیس اہلکاروں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں ۔ مظاہرین نے شہر کی کئی سڑکیں مختلف اشیا کو آگ لگا کر بند کردیں اور پولیس اہلکاروں پر کاک ٹیل بم اور پتھر برسائے جن کا پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج سے جواب دیا۔

تاہم ملک کے دیگر شہروں میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے پرامن رہے جہاں ہزاروں افراد نے سڑکوں پر جلوس نکالے اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔

دریں اثنا، یونان کی کمیونسٹ پارٹی کے رہنما الیکا پاپاریگا نے خبردار کیا ہے کہ اب یونان کو کوئی چیز نہیں بچا سکتی۔ ان کے بقول "اگر یہ انسانوں کا گوشت بھی کھانا شروع کردیں تب بھی یونان کو نادہندہ قرار دیے جانے سے نہیں روک سکتے۔ اس سے بچنے کے لیے ہمیں یورپی یونین سے آزاد ہونا ہوگا"۔

تاہم، یونان کے وزیرِاعظم لوکاس پاپاڈیموس نے کہا ہے کہ ان کے ملک کےپاس یورپی یونین کی جانب سے مہیا کردہ 172 ارب ڈالرز کے بیل آؤٹ پیکج کی سخت شرائط سے اتفاق کے سوا اور کوئی صورت موجود نہیں۔

حکومت کی جانب سے پیش کردہ نئے بچت اقدامات پر ملکی پارلیمان میں اتوار کو رائے شماری متوقع ہے جس میں ملک میں کم از کم تنخواہ کے موجودہ معیار میں 22 فی صد کمی اور 15 ہزار سرکاری ملازمتوں کے خاتمے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔

گوکہ مذکورہ اقدامات پر بیشتر قانون سازوں کا اتفاق ہوچکا ہے تاہم مجوزہ بچت منصوبے پر بطورِ احتجاج پانچ وزرا نے جمعہ کو کابینہ سے استعفیٰ دے دیا ہے جن میں سے چار کا تعلق دائیں بازو کی 'لائوس پارٹی' سے ہے۔

ادھر مختلف یونینوں نے ملک میں دوروزہ عام ہڑتال شروع کردی ہے اور ملک کے بیشتر شہروں میں مشتعل احتجاجی مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG