رسائی کے لنکس

اسپیس شٹل سے آلات کی منتقلی کے کام کا آغاز


اسپیس شٹل سے آلات کی منتقلی کے کام کا آغاز

اسپیس شٹل سے آلات کی منتقلی کے کام کا آغاز

موڈیول کو پیر کے دِن جوڑا گیا تھا جِس میں چار ٹن وزن کے اسپیئر پارٹس، آلات، خوراک اور دیگر رسد موجود ہے جِس کی مدد سے خلائی اسٹیشن پر 2012ء تک کے پروگرام کی ضروریات پوری ہو سکیں گی

امریکی اسپیس شٹل ’اینٹلانٹس‘ کے عملے نے بین الاقوامی اسپیس اسٹیشن پرنئے نصب کیے گئے 12.5ٹن وزنی ’رفائلو‘ کے کثیر مقصد موڈیول کا دروازہ کھول لیا ہے۔ موڈیول کو پیر کے دِن جوڑا گیا تھا جِس میں چار ٹن وزن کے اسپیئر پارٹس، آلات، خوراک اور دیگر رسد موجود ہے جِس کی مدد سے خلائی اسٹیشن پر 2012ء تک کے پروگرام کی ضروریات پوری ہو سکیں گی۔

امریکی خلائی ادارے ناسا کا کہنا ہے کہ عملے کے ارکان جلد ہی یہ رسد اسپیس اسٹیشن منتقل کرنا شروع کردیں گے اور رفائلو میں تقریبا تین ٹن کا غیر ضروری سامان لاد یں گے جسے زمین پر واپس لایا جائے گا۔

دریں اثنا، ناسا کا کہنا ہے کہ خلا میں سوویت وقت کا ملبہ جس کا ادارہ مشاہدہ کرتا رہتا ہے اسپیس اسٹیشن یا شٹل کے لیے کسی خطرے کا باعث نہیں بنے گا۔ اِس بات پر تشویش لاحق رہی ہے کہ کہیں یہ ملبہ منگل تک اسپیس گاڑی سے نہ ٹکرا جائے۔ سمجھا جاتا ہے کہ منگل کو جب خلائی چہل قدمی ہوگی اُس وقت یہ ملبہ راستے سے قریب تر ہوگا۔

ملبے کے بارے میں ناسا کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ یہ سوویت دور کے سیٹلائٹ مہمات سے متعلق پانچ لاکھ پرزہ جات پر مشتمل ہے جس کا ناسا مشاہدہ کرتا رہتا ہے۔

زمین پر واپسی پر’ ایٹلانٹیس‘ کو ریٹائر کر دیا جائے گا اوراِس طرح 30سالہ امریکی خلائی شٹل پرگرام پورا ہوگا۔

XS
SM
MD
LG