رسائی کے لنکس

2009ء سے 2011ء تک عزاداروں کے جلوس پر9 حملے


2009ء سے 2011ء تک عزاداروں کے جلوس پر9 حملے

2009ء سے 2011ء تک عزاداروں کے جلوس پر9 حملے

بدقسمتی سے پاکستان میں جہاں دہشت گردی سے تقریباً تقریباً کوئی جگہ محفوظ نہیں وہیں ، مصدقہ میڈیا رپورٹس اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، سن دو ہزار نو سے اب تک مختلف شہروں میں 9مرتبہ عزاداروں کے جلوسوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جس میں مجموعی طور پر 177 افراد جاں بحق جبکہ689 افراد زخمی ہوچکے ہیں ۔

اس دوران لاہور کے چار اورکراچی کے تین جلوسوں کو دہشت گردوں نے اپنی کارروائی کا نشانہ بنایا جبکہ ڈیرہ غازی خان اور کوئٹہ میں ایک ایک جلوس دہشت گردوں کے نشانے پر رہا۔ ان حملوں کے نتیجے میں کراچی میں 52، لاہور میں 42، ڈیرہ غازی خان میں 33 اور کوئٹہ میں 50 افراد لقمہ اجل بنے ۔

پانچ فروری دو ہزار نو کو پہلی مرتبہ دہشت گردوں کا نشانہ ڈیرہ غازی خان کا ماتمی جلوس بنا۔ دھماکے کے وقت جلوس کے شرکاء وڈانی امام بارگاہ کے قریب سے گزر رہے تھے ۔ حملے میں 33 افراد جاں بحق اور 80 زخمی ہوئے ۔

28 دسمبر دو ہزار نو کو کراچی میں ایم اے جناح روڈ پر محرم الحرام کے مرکزی جلوس میں شدید دھماکا ہوا جس میں کم ازکم25افرادجاں بحق اور60کے قریب زخمی ہوئے۔

چھ فروری دوہزار دس کو کراچی میں حضرت امام حسین کے چہلم کے موقع پر یکے بعد دیگر دو خود کش حملوں میں 27 افراد جاں بحق اور سو سے زائد زخمی ہوئے ۔ پہلا خود کش حملہ شاہراہ فیصل پر واقع نرسری برج کے قریب ایم اے جناح روڈ پر چہلم کے جلوس میں شرکت کے لئے عزاداران کی بس پر ہوا جس میں 13 افراد جاں بحق اور 75 سے زائد زخمی ہوگئے ۔

دوسرا دھماکا جناح اسپتال کے ایمرجنسی گیٹ پر ہوا جہاں نرسری بم دھماکے کے زخمیوں اور ہلاک ہوجانے والوں کی لاشوں کو ایمرجنسی وراڈ میں منتقل اور میتوں کو اسپتال سے گھروں کومنتقل کیا جارہا تھا۔ دھماکے کے نتیجے میں 13 افراد جاں بحق اور 25 افراد زخمی ہو گئے۔

یکم ستمبر دو ہزار دس کو لاہور میں حضرت علی کے یوم شہادت پر ماتمی جلوس میں تین خود کش حملے کیے گئے جن میں 29 افراد جاں بحق اور 237 سے زائد زخمی ہوئے ۔

تین ستمبر دو ہزار دس کو کوئٹہ میں یوم القدس کے جلوس کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ میزان چوک پہنچا جس کے نتیجے میں پچاس سے زائد افراد ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہوئے ۔

پچیس جنوری دو ہزا ر گیارہ کو ایک بار پھر لاہور میں حضرت امام حسین کے چہلم پر جلوس کو نشانہ بنایا گیا جس میں 13 افراد جاں بحق اور 70 سے زائد زخمی ہو ئے ۔

XS
SM
MD
LG