رسائی کے لنکس

خودکش بم حملے میں پنجاب کے وزیر داخلہ ہلاک


شجاع خانزادہ (فائل فوٹو)

شجاع خانزادہ (فائل فوٹو)

شجاع خانزادہ فوج کے ریٹائرڈ کرنل تھے اور ملک میں خصوصاً پنجاب میں دہشت گردوں و انتہا پسندوں کے خلاف ایک بلند آہنگ شخصیت تصور کیے جاتے تھے۔

پاکستان میں اتوار کی صبح ہونے والے ایک خودکش بم حملے میں پنجاب کے صوبائی وزیر داخلہ شجاع خانزادہ سمیت کم از کم 15 افراد ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہو گئے۔

شجاع خانزادہ ضلع اٹک کے گاؤں شادی خان میں اپنے ڈیرے پر لوگوں کے مسائل سن رہے تھے کہ اسی دوران یہاں ایک خودکش حملہ آور نے پہنچ کر خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

دھماکے سے ڈیرے کی عمارت مکمل طور پر تباہ ہو گئی اور یہاں موجود درجنوں افراد ملبے تلے دب گئے۔

پولیس اور امدادی کارکنوں نے جائے وقوع پر پہنچ کر ملبے تلے دبے لوگوں کو نکالنا شروع کیا۔ امدادی کارروائیوں میں فوج کے اہلکاروں نے بھی حصہ لیا۔

حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ خودکش حملہ آور ڈیرے میں داخل نہیں ہوسکا تھا اور اس نے عمارت کی دیوار کے ساتھ کھڑے ہو کر اپنے جسم سے بندھے بارودی مواد میں دھماکا کر دیا۔

مقامی ذرائع ابلاغ میں دو مختلف شدت پسند تنظیموں کی طرف سے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ان میں کالعدم تنظیم لشکر اسلام اور لشکر جھنگوی شامل ہیں۔

صدر ممنون حسین، وزیراعظم نواز شریف اور فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سمیت سیاسی و سماجی شخصیات نے اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔

ایک بیان میں وزیراعظم نواز شریف نے دھماکے میں شجاع خانزادہ اور دیگر افراد کی ہلاکت پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف دی جانے والی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور ملک سے آخری دہشت گرد کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔

فوج کے ترجمان کے مطابق جنرل راحیل شریف نے انٹیلی جنس ایجنسیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس حملے کے منصوبہ سازوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے دیگر اداروں کی مدد کریں۔ آرمی چیف کا کہنا تھا کہ شجاع خانزادہ ایک بہادر افسر تھے اور پاکستان سے دہشت گردی کے خاتمے کی کوششوں میں ان کی قربانی کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔

شجاع خانزادہ فوج کے ریٹائرڈ کرنل تھے اور ملک خصوصاً پنجاب میں دہشت گردوں و انتہا پسندوں کے خلاف ایک بلند آہنگ شخصیت تصور کیے جاتے تھے۔ فوج میں اپنی ملازمت کے دوران وہ خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے لیے بھی خدمات انجام دے چکے تھے۔

سینیئر تجزیہ کار اور سلامتی کے امور کے ماہر تسنیم نورانی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں اتوار کو ہونے والے دہشت گرد واقعے کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اب شہری علاقوں خصوصاً پنجاب کے اضلاع میں سکیورٹی پر خاص توجہ دینا ہوگی۔

"خیال یہی کیا جا رہا تھا کہ پنجاب میں انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی اتنی شدت سے نہیں ہو رہی، پہلی دفعہ (پنجاب میں) انھوں نے اتنی بڑی کارروائی کی تھی (لشکر جھنگوی کے خلاف) جس کا یہ ردعمل ہو سکتا ہے تو اب ان کو اپنی کارروائیوں کو تیز کرنا ہوگی اور محتاط رہنا ہوگا کیونکہ ایسا نہ ہو کہ باقی علاقوں میں دہشت گردی کنٹرول ہو جائے اور پنجاب میں نہ ہو۔"

اکتوبر 2014ء میں پنجاب کی وزارت داخلہ کا قلمدان سنبھالنے کے بعد شجاع خانزادہ صوبے میں انتہا پسندوں کے خلاف بھرپور کارروائیوں کی نگرانی بھی کرتے آ رہے تھے۔ دو ہفتے قبل ہی ایک کالعدم شدت پسند تنظیم لشکر جھنگوی کے رہنما ملک اسحاق کی پولیس کے ساتھ جھڑپ میں ہلاکت کے بعد اطلاعات کے مطابق صوبائی وزیر کو شدت پسندوں کی طرف سے دھمکیاں مل رہی تھیں۔

XS
SM
MD
LG