رسائی کے لنکس

آنگ ساں سوچی کی رہائی کا دنیا بھر میں خیرمقدم

  • یکو کولومبنٹ
  • جمیل اختر

آنگ ساں سوچی کی رہائی کا دنیا بھر میں خیرمقدم

آنگ ساں سوچی کی رہائی کا دنیا بھر میں خیرمقدم

امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ دہ دنیا بھر میں موجود ان کروڑں لوگوں کے ساتھ شامل ہیں جو 1991ء میں نوبیل انعام حاصل کرنے والی شخصیت کی رہائی کا خیرمقدم کررہے ہیں

طویل عرصے سے جمہوریت کے لیے کام کرنے والی راہنما آنگ ساں سوچی کی برما میں، جسے میانمر بھی کہا جاتا ہے، اپنے گھر پر نظربندی سے رہائی کے بعد دنیا بھر میں ان کے حامی خوشی منا رہے ہیں۔ لیکن انہیں یہ خدشہ بھی ہے کہ برما کے آزادی کے مقتول راہنما آنگ سان کی بیٹی کو اس سے پہلے بھی رہا کرنے کے بعد دوبارہ گرفتار کرلیا گیاتھا۔

فرانس میں برمی کمیونٹی کے افراد اور آنگ ساں سوچی کے حامی ان کی رہائی کے فوراً بعد اپنی خوشی کے اظہار کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ان مظاہرین میں مریلی بوسن بھی شامل تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ہم سب کے لیے خوشی کا ایک موقع ہے جو ایک طویل عرصے سے ان کے لیے، برمی عوام کے لیے ، جو ان کے حامی ہیں، جدوجہد کررہے ہیں ۔ ہم اس وقت بہت خوش ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہم محتاط بھی ہیں ،میرا مطلب ہے کہ ہم اس وقت خوشی منا رہے اور ہم چاہتے ہیں کہ وہ بحفاظت رہیں اور ہم نے برمی حکام سے کہاہے کہ وہ ان کی حفاظت کی ضمانت دیں۔

واشنگٹن کے ایک ماہر قانون جیراڈ گنسلر نے بھی، جو جیلوں میں قید کئی سو جمہوریت نواز برمیوں کی مدد کے لیے کوشاں رہتے ہیں، آنگ ساں سوچی کی رہائی پر خدشات کا اظہار کیا ۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اس سے پہلے بھی تین بار رہا ہوچکی ہیں اور ملک میں کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ حالیہ برسوں میں فوجی حکمرانوں کی جانب سے ایسی کسی کوئی علامت سامنے نہیں آئی جس سے یہ اظہار ہوتا ہو کہ وہ آنگ ساں سوچی کے ساتھ کسی قسم کے مکالمے کے ذریعے مفاہمت پر تیار ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ دہ دنیا بھر میں موجود ان کروڑں لوگوں کے ساتھ شامل ہیں جو 1991ء میں نوبیل انعام حاصل کرنے والی شخصیت کی رہائی کا خیرمقدم کررہے ہیں۔

اس بیان میں برما کے فوجی راہنماؤں سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ آنگ ساں سوچی کی رہائی کو غیر مشروط بنائیں تاکہ وہ سفر کرسکیں اور کسی رکاوٹ کے بغیر سیاست میں حصہ لے سکیں۔

نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی کی 65 سالہ قائد آنگ ساں سوچی ، گذشتہ 20 سال کے عرصے میں زیادہ تر قید میں رہی ہیں۔ ان کی جماعت نے 1990ء کے انتخابات میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے تھے مگر اسے مسترد کردیا گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG