رسائی کے لنکس

برما: آنگ ساں سوچی پیشگی شرط کے بغیر حکومت سے مذاکرات پر تیار


برما: آنگ ساں سوچی پیشگی شرط کے بغیر حکومت سے مذاکرات پر تیار

برما: آنگ ساں سوچی پیشگی شرط کے بغیر حکومت سے مذاکرات پر تیار

برما کی جمہوریت نواز راہنما آنگ ساں سوچی نے کہا ہے کہ وہ ملک کی نئی حکومت پر، جس میں سویلین ارکان برائے نام ہیں، سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے بدستور دباؤ ڈالتی رہیں گی۔ لیکن ان کا کہناتھا کہ وہ قیدیوں کی رہائی کے معاملے کومستقبل کے مذاکرات کی ایک شرط بنانے کے حق میں نہیں ہیں۔

برما کی نوبیل انعام یافتہ لیڈر نے منگل کے روز رنگون میں وائس آف امریکی کی برمی سروس کے نمائندے سے گفتگو میں جمہوری اصلاحات کے لیےملک کے اندر اور باہر جمہوریت نواز افراد کی جانب سے نئی حکومت پر دباؤ ڈالنے کی کوششوں کو اپنی بات چیت کا موضوع بنایا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ کسی پیشگی شرط کے بغیر پچھلے مہینے شروع ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں طویل عرصے تک فوجی اقتدار کے دوران جیل میں بھیجے گئے دوہزار سے زیادہ قیدیوں کی جلد رہائی میں مدد مل سکتی ہے۔

آنگ ساں سوچی نے یہ بھی کہا کہ ہمارے ملک کو بالخصوص صحت عامہ اور تعلیم کے شعبوں میں بدستور غیر ملکی امداد کی اشد ضرورت رہے گی۔ ان کا کہناتھا برما پر بڑے پیمانے پر عائد مغربی ممالک کی پابندیاں صرف اس صورت اٹھائی جانی چاہیں جب ملک میں حقیقی تبدیلیاں آنے کے شواہد ظاہر ہوجائیں۔

واشنگٹن میں پیر کے روز امریکی سینیٹر جم ویب نے، جو مشرقی ایشیائی امور سے متعلق سینیٹ کی سب کمیٹی کے چیئر مین بھی ہیں، کہا کہ اگر برما کی حکومت جمہوریت نواز حزب اختلاف کے ساتھ مذاکرات جاری رکھتی ہے تو واشنگٹن کو برما کے معاملے میں اپنی پالیسیوں میں ردوبدل کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

XS
SM
MD
LG