رسائی کے لنکس

گلے میں بندھے بم کا نشانہ لڑکی خوفزہ، لیکن بلند حوصلہ


گلے میں بندھے بم کا نشانہ لڑکی خوفزہ، لیکن بلند حوصلہ

گلے میں بندھے بم کا نشانہ لڑکی خوفزہ، لیکن بلند حوصلہ

گلے میں بندھے بم کے ساتھ 10 گھنٹے زندگی اور موت کی کشمکش میں گزارنے والی آسٹریلوی نوجوان لڑکی کے حوصلے بلند ہیں تاہم وہ اب بھی خاصی خوف زدہ ہے۔

متاثرہ لڑکی کے والد ولیم پلور نے جمعرات کو صحافیوں کو بتایا کہ ان کی بیٹی تھکی ہوئی اور خوفزدہ ہے تاہم ان کے حوصلے بلند ہیں ۔ انہوں نے ذرائع ابلاغ سے اپیل کی کہ وہ ان کے خاندان کی خلوت کا احترام کرے اور انہیں معمول کی زندگی گزارنے دے۔

ادھر سڈنی پولیس کی جانب سے جائے واقعہ کی طرف جانے والی تمام گلیاں بند کرکے تلاشی کا کام جاری ہے تاکہ ایسے شواہد اکٹھے کیے جاسکیں جن کے ذریعے اس نقاب پوش ملزم تک پہنچنا ممکن ہو جس نے بدھ کو 18 سالہ میڈلین پلور کے گلے سے بم باندھ دیا تھا۔

آسٹریلوی وزیرِاعظم جولیا گیلارڈ نے واقعہ کو ہالی ووڈ فلموں سے بڑھ کر قرار دیا ہے۔

مسلسل 10 گھنٹوں کی محنت کے بعد پولیس بدھ کو رات گئے پلور کے گلے سے بندھی ڈیوائس علیحدہ کرنے میں کامیاب ہوگئی تھی۔ تاہم ڈیوائس کے مزید تجزیے سے پتا چلا کہ ڈیوائس میں اصلی دھماکہ خیز مواد موجود نہیں تھا۔

پولیس کی جانب سے سڈنی کے ایک پوش نواحی علاقے کے گھر میں ایک شخص کی جانب سے چھوڑی گئی تحریر کا جائزہ بھی لیا جارہا ہے جس کا تعلق واقعہ سے جوڑا گیا ہے۔

متاثرہ لڑکی کے والد ولیم پلور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ایک کمپنی کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔ پولیس کے بقول تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ ان کے خاندان کو کیوں نشانہ بنایا گیا۔

XS
SM
MD
LG