رسائی کے لنکس

کوئلہ برآمد کرنے والی آسٹریلوی بندرگاہ پر سرگرمیاں معطل


کوئلہ برآمد کرنے والی آسٹریلوی بندرگاہ پر سرگرمیاں معطل

کوئلہ برآمد کرنے والی آسٹریلوی بندرگاہ پر سرگرمیاں معطل

آسٹریلیا میں کوئلہ برآمد کرنے والی دنیا کی سب سے بڑی بندرگاہ پر اتوار کو اُس وقت تمام سرگرمیاں معطل ہوگئیں جب ماحولیاتی توازن کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی ایک مقامی تنظیم کے کارکنوں نے بندر گاہ میں داخل ہونے کے بعد خود کو زنجیروں کے ذریعے کوئلہ لادنے والی مشینوں سے باندھ لیا ۔

رائزنگ ٹائیڈ نامی تنظیم سے تعلق رکھنے والے ان مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ نظریں بچا کر سڈنی کے شمال میں نیو کاسل نامی بندرگاہ میں طلوع صبح سے پہلے داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کا نام ”ہنگامی مداخلت“ رکھا گیا تھا۔

بندرگاہ کے ایک ترجمان نے بتایا کہ تقریباََ پانچ گھنٹوں تک تمام سرگر میاں مکمل طور پر بند رہیں اور اس سے ہونے والے مالیاتی نقصانات کا تخمینہ لگانے میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ اس احتجاج کا مقصد ماحولیاتی تبدیلی کے مسئلے کو اجاگر کرنا تھا جو روس میں بڑے پیمانے پر لگنے والی حالیہ جنگلاتی آگ اور پاکستان میں تباہ کن سیلابوں کا سبب ہے۔ انھوں نے کوئلہ کی آسٹریلوی برآمدات کو بھی اس کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

XS
SM
MD
LG