رسائی کے لنکس

اس میچ میں جہاں پاکستانی بلے بازوں نے پر اعتماد بیٹنگ کرتے ہوئے آسٹریلوی ٹیم کے لیے بڑے اہداف مقرر کیے وہیں نوجوان باؤلرز نے شاندار کھیل کا مظاہرے کرتے ہوئے اپنی ٹیم کو فتح سے ہمکنار کیا۔

پاکستان نے آسٹریلیا کو دوسرے ٹیسٹ میچ میں 356 رنز سے شکست دے کر 32 سال بعد آسٹریلوی ٹیم کو ٹیسٹ سیریز میں وائٹ واش کر دیا۔

20 سال قبل 1994ء میں پاکستان نے آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز جیتی تھی لیکن 32 سال قبل پاکستانی ٹیم نے آسٹریلیا کے خلاف کلین سوئپ کیا تھا۔

ابوظہبی میں کھیلے جانے والے دوسرے ٹیسٹ میچ میں آسٹریلیا کی ٹیم دوسری اننگز میں 603 رنز کے تعاقب میں 246 رنز پر آؤٹ ہو گئی۔

اس میچ میں جہاں پاکستانی بلے بازوں نے پر اعتماد بیٹنگ کرتے ہوئے آسٹریلوی ٹیم کے لیے بڑے اہداف مقرر کیے وہیں نوجوان باؤلرز نے شاندار کھیل کا مظاہرے کرتے ہوئے اپنی ٹیم کو فتح سے ہمکنار کیا۔

دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں دو صفر سے کامیابی کے بعد پاکستان انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ’آئی سی سی‘ کی عالمی ٹیسٹ درجہ بندی میں تیسری پوزیشن پر آ گیا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان نے نجی ٹیلی ویژن چینل سے گفتگو میں کہا کہ پوری ٹیم کے متحد ہو کر کھیلنے سے اتنی بڑی کامیابی ملی۔

’’اس میں تمام کھلاڑی بہت کامیابی سے کھیلے ہیں۔۔۔۔ میں اس جیت کا کریڈٹ پوری ٹیم کو دینا چاہوں گا۔‘‘

کپتان مصباح الحق نے اس تاریخی کامیابی کے بعد نیوز کانفرنس میں کہا کہ اس فتح سے ٹیم کا اعتماد بڑھے گا۔

’’ابھی ہمارے پاس جس طرح کی غیر تجربہ کار باؤلنگ لائن اپ تھی اور ہماری ٹیم کی فارم کو مد نظر رکھتے ہوئے اگر دیکھا جائے تو یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔‘‘

مصباح الحق نے کہا کہ اس کامیابی کی ایک بڑی وجہ ٹیم کے تمام کھلاڑیوں کا شاندار کھیل تھا۔

’’اس سیریز میں یہ سب سے بڑی چیز تھی کہ ہر کھلاڑی نے اس جیت میں اہم کردار ادا کیا، اور یہ ہی میرے خیال میں ایک اچھی ٹیم کی نشانی ہے۔‘‘

میچ کے آخری اور پانچویں روز آسٹریلیا نے 143 رنز چار کھلاڑی آؤٹ پر اپنی دوسری اننگز کا آغاز کیا لیکن اُس کے کھلاڑی جم کر نا کھیل سکے۔

بائیں بازو سے باؤلنگ کروانے والے ذوالفقار بابر سب سے کامیاب باؤلر رہے جنہوں نے دوسری اننگز میں آسٹریلیا کے پانچ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، یاسر شاہ نے تین اور محمد حفیظ نے دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

پاکستانی ٹیم کے کپتان مصباح الحق کو مین آف دی میچ اور یونس خان کو مین آف دی سیریز کا قرار دیا گیا۔

اسٹیون سمتھ آسٹریلیا کے سب سے کامیاب بلے باز رہے جنہوں نے 97 رنر بنائے لیکن کھانے کے وقفے بعد وہ ذوالفقار بابر کی گیند پر آؤٹ ہو گئے۔

رنز کی سبقت کے حوالے سے یہ پاکستان کی سب سے بڑی کامیابی ہے اس سے قبل اُس نے کراچی میں 2006 میں بھارت کے خلاف ٹیسٹ میچ میں 341 رنز سے فتح حاصل کی تھی۔

اس میچ کی اہم بات مصباح الحق کی ٹیسٹ کرکٹ میں تیز ترین نصف سنچری کا ریکارڈ تھا، اُنھوں نے 21 گیندوں پر پچاس رنز بنا کر یہ ریکارڈ بنایا۔ مصباح الحق نے 56 گیندوں پر سنچری مکمل کر کے ویسٹ انڈیز کے بلے باز ویوین رچرڈ کی تیز ترین سنچری بنانے کا عالمی ریکاڑ برابر کر دیا۔

XS
SM
MD
LG