رسائی کے لنکس

آسٹریلیا میں حکومت سازی کی کوششیں جاری

  • ب

آسٹریلیا میں ہونے والے انتخابات میں 80فیصد ووٹوں کی گنتی کے بعد حکومت بنانے کے لیے 150رکنی ایوان میں کسی بھی ایک جماعت کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہوسکی ہے۔

وزیراعظم جولیا گیلارڈ اور ان کے قریبی حریف ٹونی ایبٹ کی طرف سے مخلوط حکومت بنانے کے لیے پیر کو بھی مذاکرات جاری رہنے کی توقع ہے۔

ڈاک کے ذریعے ڈالے گئے تقریباً 20لاکھ ووٹوں کی گنتی ہونا ابھی باقی ہے اور حتمی نتائج آنے میں ایک ہفتہ لگ سکتا ہے۔ مبصرین گیلارڈ اور ایبٹ میں حکومت سازی سے قبل طویل مذاکرات کی توقع ظاہر کر رہے ہیں۔

لیبر پارٹی کی جولیا گیلارڈ اور لبرل اور نیشنل پارٹیوں کے اتحاد کے امیدوار ٹونی ایبٹ گرین پارٹی اور کامیاب ہونے والے آزاد امیدواروں سے مشاورت کررہے ہیں۔ گرین پارٹی کے Adam Bandtکاکہنا ہے کہ وہ لیبر پارٹی کی حمایت کریں گے ۔

اگر جولیا گیلارڈ حکومت بناتی ہیں تو وہ آسٹریلیا کی پہلی منتخب خاتون وزیراعظم ہوں گی۔ انھوں نے سابق وزیراعظم کیون رڈکی جگہ جون میں حکومت سنبھالی تھی۔ گیلارڈ کو اس دوران کئی مشکلات کا سامنا رہا ہے جس میں کان کنی کی صنعت پر ٹیکس، کمزور معاشی صورتحال اور اپنی جماعت میں مخالفت شامل ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ گیلارڈ لیبر پارٹی کی اقتصادی پالیسیوں سے خاطر خواہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ ٹونی ایبٹ نے بھی الزام لگایا ہے کہ حکمران جماعت لوگوں کا پیسہ ضائع کررہی ہے جب کہ وہ حکومت کے مقابلے میں جلد قرضہ جات واپس کرنے کا وعدہ کرتے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ انتخابات کے غیر یقینی نتائج ملک کی اقتصادی مارکیٹ پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG