رسائی کے لنکس

آسٹریلیا: اوباما کے دورے میں دلچسپی کم

  • ڈٰیرک ہینکل

امریکہ کے اندر تو تجزیہ کار کبھی معاشی بحران ،کبھی صحت عامہ کی اصلاحات اور کبھی خلیج میکسیکو میں حادثے کاشکار ہونے والے کنویں سے تیل کا اخراج بند کرنے کے حوالے سے صدر اوباما کی کارکردگی کا جائزہ لے ہی رہے ہیں مگر امریکہ کے باہربھی بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین صدر اوباما کی جانب سے اپنے انڈونیشیا اور آسٹریلیا کے دورے بار بار ملتوی کرنے پربرہم دکھائی دے رہے ہیں ۔آسٹریلیا میں جہاں صدر اوباما کے متوقع دورے کی تاریخ چار بار آگےبڑھائی جاچکی ہے ، صدر اوباما کے استقبال کی تیاریوں میں مصروف عوام کا جوش اب ٹھنڈا پڑتا دکھائی دے رہا ہے ۔

آسٹریلیا کے وزیر اعظم کیون روڈ نے اس ہفتے کے شروع میں صدر اوباما کے دورہ آسٹریلیا کے التوا کا اعلان کرتے ہوئے اس کی وجہ خلیج میکسیکو میں تیل کا اخراج قرار دی تھی۔مگر آسٹریلیا کے عوام میں اب صدر اوباما کے آنے یا نہ آنے میں دلچسپی میں کمی آرہی ہے۔ چوتھی بار دورہ ملتوی کرنے پر آسٹریلیا کی حکومت کی جانب سے جو رد عمل سامنے آیا ہے ، اسے کچھ لوگ آسٹریلیا امریکہ تعلقات کومتاثر ہونے سے بچانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں ۔

آسٹریلیوی وزیر اعظم کیون رڈ نے کہا تھا کہ اوباما کو خلیج میکسیکو میں ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے ۔جو ان کی انتظامیہ کے لئے ایک مشکل صورتحال ہے۔مگر وہ جب چاہیں آسٹریلیاآسکتے ہیں ۔

آسٹریلوی وزیر اعظم کی جانب سے تعلقات قائم رکھنے کی یہ کوشش آسٹریلیا کے اخبارات کی اس تنقید کے بعد سامنے آئی ہے جس میں صدر اوباما کے آسٹریلیا نہ آنے کی صورت میں چند ماہ بعد ہونے والے متوقع آسٹریلوی انتخابات میں وزیر اعظم کیون رڈ کی کامیابی کو مشکل قرار دیا گیا تھا ۔ تاہم آسٹریلین سپیکٹیٹر نامی اخبار کے ایڈیٹر ٹام سویٹزر اس رائے سے اتفاق نہیں کرتے ۔

وہ کہتے ہیں کہ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ وزیر اعظم کیون رڈ صدر اوباما اور ان کے اہل خانہ کی میزبانی کر کے خوشی محسوس کریں گے ۔ لیکن میرے خیال میں وہ دن گزر گئے ہیں جب ایک امریکی صدر کے دورے سے ملک کے وزیر اعظم کو سیاسی فائدہ پہنچتا تھا ۔

دن گزر گئے ہیں ، دلچسپی کم ہوئی ہے یا خطے میں امریکہ کا اثر ختم ہو رہا ہے ،آسٹریلیا کے عام لوگوں کو بظاہر کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ایک عام شہری وین پیری کا کہنا ہے کہ ہمیں زیادہ برا لگتا اگر کوئی چینی راہنما آسٹریلیا آنے سے انکار کر دیتا ۔ یہی تو ہمارے روزگار کا ذریعہ ہے ۔

امریکی صدر کے آنے جانے اور نہ آنے کے بدلتے منصوبوں سے اگر کسی کو مایوسی ہوئی تو وہ ہیں طالبعلم ،سڈنی یونیورسٹی کے طالب علموں نے صدر اوباما کے آسٹریلیا نہ آنے پر اپنے سٹوڈنٹ اخبار کی جو ہیڈلائن لگائی ہے اس سے ان کی مایوسی کا پتہ چلتا ہے ۔سڈنی یونیورسٹی کے طالب علموں کے اخبار کے ایڈیٹر ہنری ہاؤتھورن کا کہنا ہے کہ گو ان کے آنے نہ آنے سے فرق تو کوئی نہیں پڑتا ۔ مگر بات یہ ہے کہ لوگ اوباما امریکہ کا صدر نہیں ، بلکہ ایک عالمی سربراہ سمجھتے ہیں ۔

مارچ میں صدراوباما کے پہلے دورہ آسٹریلیا کے اعلان کے بعد اسی سٹوڈنٹ اخبار کے ایڈیٹر ہنری ہاؤتھورن نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا تھا کہ اس دورے سے آسٹریلیا کو عالمی سٹیج پر ابھرنے کا موقعہ ملے گا ۔ لیکن اب جبکہ صدر اوباما کے آسٹریلیا کے دورےکی تاریخ ایک بارپھر تبدیل کی گئی ہے اور اس سے پہلے امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن بھی ایک بار اپنا دورہ ملتوی کر چکی ہیں ، آسٹریلیا میں یہ احساس پیدا ہورہا ہے کہ شاید عالمی منظر نامے پر اس کی اتنی اہمیت نہیں ۔

ہنری ہاؤ تھورن کہتے ہیں کہ میرے خیال میں لوگوں کی دلچسپی ختم ہو رہی ہے ۔ حالانکہ پہلے انہیں کافی دلچسپی تھی ۔ مگر وہ نہیں آئے ،پھر کہا آوں گا ،پھر نہیں آئے ، تواب لوگوں کا جوش ٹھنڈا ہو چکا ہے ۔

اور یہ رائے صرف طالب علموں کے اخبارات تک ہی محدود نہیں ، آسٹریلیا کے بڑے اخبارات میں بھی امریکی صدر کے اگلے دورے کی تاریخ کے حوالے سے بے یقینی نے ایک نئی پالیسی کو جنم دیا ہے ۔

ٹام سوٹزر کا کہنا ہے کہ میں تو اس دورے کے بارے میں کوئی خبر بھی نہیں چھاپوں گا ۔ بالکل نظر انداز کر دوں گا ۔ ہم نے پچھلی بار ان کے متوقع دورے پر اپنے اخبار میں خصوصی مضامین شائع کئے تھے مگر اب ہم ایسی غلطی نہیں کریں گے ۔

یہ صورتحال اوباما انتظامیہ کے لئے بھی تشویش کا باعث ہےکہ وہ خلیج میکسیکو میں تیل کے بحران پر قابو پانے کےساتھ ساتھ آسٹریلیا میں پیدا ہونےو الے تعلقات عامہ کے اس بحران پر کیسے قابو پائیں ۔

XS
SM
MD
LG