رسائی کے لنکس

آسٹریلیا: بدنامِ زمانہ مجرم کی باقیات کی 130 برس بعد شناخت


آسٹریلیا: بدنامِ زمانہ مجرم کی باقیات کی 130 برس بعد شناخت

آسٹریلیا: بدنامِ زمانہ مجرم کی باقیات کی 130 برس بعد شناخت

آسٹریلوی سائنس دانوں نے 19 ویں صدی کے مشہور مجرم نیڈ کیلے کی سربریدہ باقیات کی شناخت کرلی ہے جس کے بعد بدنامِ زمانہ افسانوی شخصیت کی لاش سے جڑی 130 سالہ پراسراریت کا خاتمہ ہوگیا ہے۔

'وکٹورین انسٹی ٹیوٹ آف فرینزک میڈیسن' سے منسلک تجزیہ کاروں نے ایک اجتماعی قبر سے دریافت ہونے والے کئی درجن ڈھانچوں میں سے نیڈ کیلے کی باقیات کو اس کی نسل کے ایک فرد کے 'ڈی این اے' کی مدد سے شناخت کیا۔

کیلے آسٹریلیا کی جنوبی ریاست وکٹوریا میں بینک لوٹنے اور پولیس اہلکاروں کے قتل میں ملوث ایک مجرم گروہ کا سرغنہ تھا جسے 1880ء میں 25 برس کی عمر میں گرفتاری کے بعد پھانسی دیدی گئی تھی۔

کیلے کو بعد ازاں آئرش نسل کے آسٹریلوی باشندوں کے نزدیک ایک 'لوک داستانی ہیرو' کا درجہ حاصل ہوگیا تھا جو برطانیہ کے نوآبادیاتی اقتدار کے تحت خود کو محکوم تصور کرتے تھے۔

کیلے کی مجرمانہ وارداتیں کئی کتابوں اور فلموں کا موضوع بھی بنیں۔ ان فلموں میں'رولنگ اسٹونز' کے مرکزی گلوکار مِک جیگر اور آنجہانی اداکار ہیتھ لیجر بھی کیلے کے کردار میں جلوہ افروز ہوئے۔

کیلے کو پھانسی کے بعد 'اولڈ میلبرن گاؤل' کے قید خانے میں درجنوں دیگر قیدیوں کے ہمراہ ایک بے نشان قبر میں دفن کردیا گیا تھا۔50 برس بعد ان قبروں کی کھدائی کرکے ان قیدیوں کی باقیات کو ایک دوسرے نزدیکی جیل کے قبرستان منتقل کردیا گیا تھا۔

ان قیدیوں کے ڈھانچوں کو 2009ء میں اس وقت دوبارہ کھدائی کرکے نکالا گیا جب ماضی میں دو بار چوری ہونے والی کیلے سے منسوب ایک کھوپڑی دوبارہ دریافت ہوئی۔ بعد ازاں تجزیاتی معائنہ سے معلوم ہوا کہ مذکورہ کھوپڑی کیلے کی نہیں ہے۔

XS
SM
MD
LG