رسائی کے لنکس

آسٹریلیا میں غیر ملکی طالب علموں کو نسلی منافرت کا سامنا ہے: سروے رپورٹ


میل بورن میں بین الاقوامی طالب علموں کے خلاف تشدد کے بارے میں ایک جائزے سے ظاہر ہواہے کہ جائزے میں شرکت کرنے والے 50 فی صد افراد کا خیال ہے کہ انہیں نسل اور مذہب کی بنا پر حملوں کے خطرے کا سامنا ہے۔ آسٹریلیا کے بڑے شہروں سڈنی اور میل بورن میں گذشتہ سال بھارتی طالب علموں کے خلاف پرتشدد حملے ہوچکے ہیں۔

وکٹوریہ یونیورسٹی کی اس رپورٹ سے ظاہر ہواہے کہ میل بورن میں غیر ملکی نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد خود کو غیر محفوظ سمجھتی ہے۔

اس سروے میں ایشیا سے تعلق رکھنے والے پانچ سو سے زیادہ طالب علموں نے حصہ لیا ۔ جن کی تقریباً نصف کا یہ کہناتھا کہ ان کا خیال ہے کہ انہیں اپنے مذہب یا نسل کی وجہ سے تشدد کا خطرہ ہے۔

جائزے میں بتایا گیا ہے کہ طالب علموں کو کئی عوامل کی بنا پرتشدد کے خطرے کا سامنا ہے جن میں عوامی ٹرانسپورٹ پر ان کا انحصار اور میل بورن کے نسبتاً پس ماندہ علاقوں میں ان کا رہائش پذیر ہونا شامل ہے۔

لیکن سروے کے مصنفین کے مطابق غیر ملکی طالب علموں کے خلاف حملوں کے محرک کا تعین نسبتاً ایک مشکل کام ہے۔

اس جائزہ رپورٹ کے شریک مصنف ایسوسی ایٹ پروفیسر مائیکل گراس مین کہتے ہیں کہ ان حملوں میں نسلی تعصب کے عمل دخل کا پتا لگانے کے لیے مزیدتحقیق کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہمارے جائزے میں پولیس کے کچھ عہدے داروں نے یہ کہا کہ اگرچہ کوئی حملہ کسی موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے کیا جاسکتا ہے یا ممکن ہے کہ حملہ کرنے والے کی شروع میں نیت موقع سے فائدہ اٹھانے کی ہی ہوتی ہو، تاہم کبھی کبھی کسی راہزنی یا کسی اور قسم کے پرتشدد حملے کے دوران کسی متاثرہ شخص کی مزاحمت کو کمزور کرنے کے لیے یا اس کی مزید تضحیک کے لیے نسلی تعصب ایک ثانوی عنصر کے طورپر شامل ہوسکتا ہے۔

جائزہ رپورٹ کے مصنفین نے سرکاری عہدے داروں ، پولیس افسروں اور تعلیمی اداروں کے نمائندوں سے بھی انٹرویو کیے۔

جائزے میں شامل کچھ طالب علموں نے کہا کہ میلبورن کی پولیس مدد گار ثابت نہیں ہوتی اور یہ کہ اس کے کچھ عہدے دار نسل پرست ہیں۔

وکٹوریہ کی ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ طالب علموں کو مزید تحفظ کا احساس دلانے کے لیے پولیس کے ساتھ کام کررہی ہے۔

گذشتہ سال میل بورن اور سڈنی میں بھارت سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں پر حملوں کے ایک سلسلے سے تشدد اور نسل پرستی نمایاں ہوئی تھی۔

بھارتی طالب علموں کی تنظیموں نے عہدے داروں پر الزام لگایا ہے کہ وہ نسل پرست گروہوں سے نمٹنے کے لیے کافی اقدامات نہیں کررہے۔ تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ اگرچہ کچھ حملوں کا محرک بلاشبہ نسلی منافرت تھی تاہم زیادہ تر حملہ آور عام جرائم پیشہ لوگ تھے جنہوں نے کمپیوٹروں ، موبائل فونز اور نقدی کی تلاش میں رات گئے تنہا افراد کو نشانہ بنایاتھا۔

ان حملوں کے باعث بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان سفارتی تعلقات میں کشیدگی آچکی ہے۔

XS
SM
MD
LG