رسائی کے لنکس

آسٹریلوی پارلیمان میں پناہ گزینوں کے تبادلے کے خلاف قرارداد مذمت


فائل فوٹو

فائل فوٹو

آسٹریلوی پارلیمان نے اپنی حکومت اور ملائیشیا کے درمیان پناہ گزینوں کے تبادلے کے معاہدے کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کرلی ہے جس کے بعد یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ آیا آسٹریلوی حکومت متنازع منصوبہ پر عمل درآمد کرسکے گی یا نہیں۔

قرارداد پر بدھ کےروز ہونے والی رائے شماری میں بائیں بازو کی 'گرین پارٹی' نے بھی مجوزہ منصوبے کی مذمت میں حزبِ مخالف کی جماعتوں کا ساتھ دیا۔

منصوبے کے تحت آسٹریلوی حکومت 800 غیر قانونی پناہ گزینوں کو ملائیشیا کے حوالے کردے گی جنہیں اس وقت تک وہاں قید میں رکھا جائے گا جب تک آسٹریلوی حکومت پناہ کے حصول کے لیے دائرکردہ ان کی درخواستوں کا فیصلہ نہیں کرلیتی۔ جواباً آسٹریلوی حکومت ملائیشیا سے آنے والے چار ہزار رجسٹرڈ پناہ گزینوں کو اپنی سرزمین پر قبول کرے گی۔

سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ پارلیمان میں منظور ہونے والی مذمتی قرارداد سے منصوبے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ حکام کے بقول منصوبے کا مقصد انسانی اسمگلروں کی جانب سے پناہ گزینوں کو خستہ حال کشتیوں پر سوار کرکے آسٹریلیا لانے کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔

آسٹریلیا کی 'گرین پارٹی' پناہ کی تلاش میں آنے والے کسی بھی فرد کو بیرونِ ملک بھجوانے کی مخالفت کر رہی ہے جبکہ حزبِ مخالف کے اتحاد کا مطالبہ ہے کہ ایسے پناہ گزینوں کو رکھنے کے لیے'نورو' نامی آسٹریلوی جزیرے پر موجود قید خانے کو دوبارہ کھول دیا جائے۔

ذرائع ابلاغ میں آنے والی اطلاعات کے مطابق آسٹریلوی حکومت نے اپنا ایک وفد جنیوا بھی روانہ کیا ہے جو منصوبے کے لیے اقوامِ متحدہ کے پناہ گزینوں کے امور سے متعلق ہائی کمشنر کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔

اقوامِ متحدہ کے پناہ گزینوں سے متعلق ادارے نے منصوبے پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ مجوزہ تبادلے کے تحت ایسے بچوں کو ملائیشیا روانہ کیا جاسکتا ہے جو پناہ کی تلاش میں اکیلے ہی آسٹریلیا پہنچ جاتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG