رسائی کے لنکس

وزیراعظم ٹونی ایبٹ کے مطابق پرتشدد کارروائی سے متعلق اطلاع کسی مفروضے پر مبنی نہیں بلکہ اس کی بنیاد انٹیلی جنس ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات ہیں۔

آسٹریلیا کے وزیراعظم ٹونی ایبٹ نے بتایا کہ شدت پسند گروپ دولت اسلامیہ کے ایک رہنما کی طرف سے آسٹریلیا میں "احتجاجی" ہلاکتوں کے اعلان کے بعد جمعرات کو انسداد دہشت گردی کی ایک بڑی کارروائی شروع کی گئی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکم ایک آسٹریلوی کی طرف سے سامنے آیا جو کہ بظاہر شدت پسند گروپ کا سینیئر رہنما معلوم ہوتا ہے۔

دولت اسلامیہ عراق اور شام کے مختلف حصوں پر قابض ہے اور اس نے وہاں خلافت کا اعلان کررکھا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ " انٹیلی جنس معلومات موصول ہوئی اور یہ اعلان ایک آسٹریلوی شہری کی طرف سے آیا جو کہ بظاہر داعش کا ایک سینیئر رہنما معلوم ہوتا ہے جس کے نیٹ ورک کو یہاں آسٹریلیا میں بھی حمایت حاصل ہے، اس نے یہاں ملک میں قتل کا مظاہرہ کرنے کا کہا۔ لہذا یہ کوئی مفروضہ نہیں اسی لیے پولیس اور سکیورٹی ایجنسیز نے اسی انداز میں کارروائیاں کا فیصلہ کیا جس طرح انھیں کرنا ہوتا ہے۔"

آسٹریلوی ذرائع ابلاغ کے مطابق کسی بھی شخص کو پکڑ کر اسے دولت اسلامیہ کے پرچم میں لپیٹ کر اس کا سر قلم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔

آسٹریلوی پولیس کے تقریباً آٹھ سو اہلکاروں نے علی الصبح سڈنی، برسبین اور لوگان میں چھاپے مار کر 15 مشتبہ لوگوں کو گرفتار بھی کیا۔

جمعرات کو ہی ایک 22 سالہ نوجوان عمرجان اظاری کو عدالت میں پیش کیا گیا اور اس پر دہشت گردانہ حملہ کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔

حال ہی میں آسٹریلیا نے دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں کے خطرے کے پیش نظر ملک میں سکیورٹی مزید سخت کی تھی۔

وفاقی پولیس کے سربراہ اینڈریو کولوِن نے صحافیوں کو بتایا کہ ان چھاپوں میں جس گروپ کے خلاف کارروائی کی گئی " وہ یہاں آسٹریلیا میں پرتشدد واقعات کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔"

گزشتہ ہفتے ہی پولیس نے برسبین سے دو مشتبہ افراد کو حراست میں لیا تھا کہ جس پر شبہ تھا کہ وہ شام میں لڑائی کی تیاری، جنگجوؤں کو بھرتی کرنے اور القاعدہ سے منسلک النصرہ فرنٹ نامی گروپ کے لیے پیسے جمع کر رہے تھے۔

حکومت کا اندازہ ہے کہ لگ بھگ 60 آسٹریلوی دولت اسلامیہ کے ساتھ مل کر لڑ رہے ہیں جب کہ ایک سو سے زائد آسٹریلیا میں رہتے ہوئے اس سنی گروپ کی براہ راست حمایت کر رہے ہیں۔

رواں ہفتے ہی آسٹریلیا نے دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے خلاف امریکہ کی زیر قیادت بین الاقوامی اتحاد میں اپنے 600 فوجی اور دس طیارے بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔

XS
SM
MD
LG