رسائی کے لنکس

داعش کے خلاف سب کو متحد ہونا ہو گا: ٹونی ایبٹ


وزیراعظم ٹونی ایبٹ

وزیراعظم ٹونی ایبٹ

آسٹریلوی وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف موثر دفاع اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ اس میں شامل ہونے والے لوگوں کو بتایا جائے کہ یہ "بلا جواز" ہے۔

آسٹریلیا کے وزیراعظم ٹونی ایبٹ نے متنبہ کیا ہے کہ شدت پسند گروپ داعش کے "عالمی مقاصد" ہیں اور انھوں نے اس انتہا پسند گروپ کے خلاف سب کو متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے جمعرات کو سڈنی میں علاقائی کانفرنس میں افتتاحی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس اجلاس کا مقصد حکومتوں کو دہشت گرد پروپیگنڈا سے بچاؤ اور نمٹنے کے لیے مزید متحدہ منصوبہ تشکیل دینے میں مدد فراہم کرنا ہے۔

ٹونی ایبٹ کا کہنا تھا کہ شدت پسند گروپ سب کے لیے خطرہ ہے اور اس کا ایک ہی پیغام ہے "جھک جاؤ یا مرو"۔

انھوں نے کہا کہ آسٹریلیا دہشت گرد گروپوں کے ساتھ مل کر لڑنے کے لیے بیرون ملک جانے والے اپنے شہریوں کے خلاف مزید سخت اقدامات کرنے پر غور کر رہی ہے اور ان کے بقول یہ "غداری کی ایک نئی شکل ہے۔"

آسٹریلوی وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف موثر دفاع اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ اس میں شامل ہونے والے لوگوں کو بتایا جائے کہ یہ "بلا جواز" ہے۔

"ہمیں نوجوانوں کی یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ قربانی کے جذبے کے اظہار کے لیے موت کے سوداگروں میں شمولیت سراسر گمراہی ہے۔"

اس دو روزہ کانفرنس میں لگ بھگ 30 ملکوں کے نمائندوں، ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنی بمشول ٹوئٹر، فیس بک اور گوگل بھی شریک ہیں۔

غیر ملکی جنگجوؤں کو اس نام نہاد خلافت میں شریک ہونے میں سوشل میڈیا کا کردار اہم رہا ہے۔

باور کیا جاتا ہے کہ ایک سو سے زائد آسٹریلوی شہری داعش میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں جس کی وجہ سے آسٹریلیا کو سخت قوانین متعارف کروانے پڑے ہیں جس میں دہشت گرد گروپ میں شامل ہونے والے دہری شہریت رکھنے والے اپنے شہریوں کی شہریت منسوخ کرنا بھی شامل ہے۔

جمعرات کو آسٹریلیا کے وزیر خارجہ جولیا بشپ نے بتایا کہ انسداد دہشت گردی کی کوششوں کے سلسلے میں 115 آسٹریلوی شہریوں کے پاسپورٹ منسوخ اور نو کو معطل کر دیا گیا جب کہ پاسپورٹ کی 14 درخواستوں کو مسترد کیا جا چکا ہے۔

XS
SM
MD
LG