رسائی کے لنکس

آسٹریا: انتہائی دائیں بازو کے راہنما ہوفر کی صدارتی انتخاب میں شکست


نوبرٹ ہوفر

نوبرٹ ہوفر

انتخابی مہم کے دوران خاص طور پر ہوفر کی طرف سے تارکین وطن کے خلاف دیے گئے بیانات پر انھیں تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا اور انھیں نازی بھی قرار دیا جاتا رہا۔

آسٹریا میں تارکین وطن کے سخت مخالف تصور کیے جانے والے انتہائی دائیں بازو کے نوبرٹ ہوفر کو صدارتی انتخاب میں حریف الیگزینڈر وین ڈر بیلن سے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اتوار کو ہونے والے انتخابات میں ہوفر کی کامیابی کی توقع کی جا رہی تھی جو کہ اپنی مہم کے دوران تارکین وطن اور یورپی یونین کے خلاف بیانات دیتے آئے ہیں اور خیال کیا جا رہا تھا کہ وہ دوسری جنگ عظیم کے بعد اس ملک کے انتہائی دائیں بازو کے پہلے صدر منتخب ہو سکتے ہیں۔

تاہم سابق ایرناٹیکل انجینیئر ہوفر کو اپنے حریف ماحولیات کے ماہر بیلن سے شکست ہوئی جو کہ آزاد امیدوار کے طور پر میدان میں اترے تھے، تاہم انھیں گرین پارٹی کی حمایت حاصل رہی۔

مئی میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں بے ضابطگیوں کی شکایت پر عدالت نے اسے کالعدم قرار دے دیا تھا لہذا اتوار کو دوبارہ ووٹ ڈالے گئے۔

75 سالہ بیلن اور ان کے حریف 45 سالہ ہوفر دونوں انتخابی مہم خاصی کشیدہ رہی اور دونوں ہی نے ملک کے مستقبل کے حوالے سے مختلف نظریات پیش کیے تھے۔

الیگزینڈر بیلن

الیگزینڈر بیلن

ذرائع ابلاغ کے جائزوں کے مطابق بیلن کو 53.3 فیصد جب کہ ہوفر کو 46.7 فیصد ووٹ ملے۔ فتح پر بیلن کا کہنا تھا کہ " یہ یورپی یونین کے تمام دارالحکومتوں کے لیے تبدیلی کی امید کا اشارہ ہے۔"

ویانا میں اتوار کو دیر گئے ہوفر نے اپنی شکست کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ وہ یہ کوشش جاری رکھیں گے کہ جن 46 فیصد سے زائد آسٹریائی شہریوں نے انھیں ووٹ دیا انھیں صرف نظر نہ کیا جائے۔ ان کے بقول "ہمارا کام ابھی ختم نہیں ہوا۔"

وائس آف امریکہ کی طرف سے جب ہوفر سے پوچھا گیا کہ ان انتخابات سے اسٹبلشمنٹ کے لیے کیا پیغام جاتا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ "مجھے دیکھیں، میں آئندہ انتخاب بھی لڑوں گا۔"

مئی میں ہونے والے انتخابات میں بھی بیلن کو ہوفر پر 31000 ووٹوں کی سبقت حاصل ہوئی تھی۔

اس انتخابی مہم کے دوران خاص طور پر ہوفر کی طرف سے تارکین وطن کے خلاف دیے گئے بیانات پر انھیں تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا اور انھیں نازی بھی قرار دیا جاتا رہا۔

گزشتہ ہفتے ہی ایک بڑے اخبار نے شہ سرخی لگائی تھی کہ یہ "نفرت کا انتخاب" ہے۔

گزشتہ سال دنیا بھر سے لاکھوں تارکین وطن اور پناہ گزینوں نے یورپ کا رخ کیا تھا اور ان کی اکثریت آسٹریا کے راستے ہی یورپ کے دیگر ملکوں تک پہنچی۔

تارکین وطن کی دس لاکھ سے زائد تعداد کے باعث یورپ میں ایک بحرانی کیفیت پیدا ہو گئی تھی اور مختلف ملکوں کی طرف سے ان کے خلاف اقدام کرنے پر یورپی یونین کے دیگر ممالک کی طرف سے تنقید بھی کی جاتی رہی۔

XS
SM
MD
LG