رسائی کے لنکس

آسٹریا میں صدارتی انتخاب کے لیے پولنگ


ہوفر کے خلاف لوگ مظاہرہ کر رہے ہیں

جون میں ہونے والی پولنگ میں بے ضابطگیوں کی وجہ سے منسوخی کے بعد اتوار کو یہ ووٹ دوسری بار ڈالے جارہے ہیں۔

آسٹریا کے شہری اتوار کو ایک بار پھر ایک ایسے انتخابی عمل میں حصہ لے رہیں جس میں یورپ کی مستحکم ترین جمہوریتوں میں سے ایک میں پہلی بار کسی انتہائی دائیں بازو کے صدر منتخب ہونے کے امکان کا اظہار کیا جارہا ہے۔

جون میں ہونے والی پولنگ میں بے ضابطگیوں کی وجہ سے منسوخی کے بعد اتوار کو یہ ووٹ دوسری بار ڈالے جارہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ووٹنگ شروع ہونے سے چند گھنٹے پہلے فریڈم پارٹی کے انتہائی بازو کے امیدار نوربرٹ ہوفر ان کے حریف گرین پارٹی کے الیگزینڈر در بیلن کے درمیان انتہائی سخت مقابلے کی وجہ سے کسی کے بھی جیتنے کی پیش گوئی کرنا بہت مشکل ہے۔ جبکہ رائے عامہ کے بعض جائزوں کے مطابق سابق ایروناٹیکل انجینئر نوربرٹ کو اپنے حریف امیدوار پر تھوڑی سے برتری حاصل ہے۔

اس انتخاب کی مہم بہت طویل اور کشیدہ رہی۔

ہفتے کو ایک اخبار کی شہ سرخی میں اس کو " نفرت کا انتخاب" قرار دیا گیا جو نوربرٹ ہوفر کے دائیں بازو کے حامیوں کی پریشانی اور ان کے بائیں بازو کے ناقدین میں خوف اور تلخی کی عکاسی کرتی ہے۔ ناقدین یورپ کو درپیش پناہ گزینوں کے بحران کے تناظر میں ہوفر کے امیگریشن مخالف موقف کی وجہ سے انھیں نازی قرار دیتے ہیں۔ گزشتہ سال دس لاکھ سے زائد پناہ گزین یورپ میں پہنچے اور ان میں زیادہ تر آسٹریا کے راستے یہاں داخل ہوئے۔

اتوار کو صدارتی انتخاب کے لیے ووٹنگ دوبارہ کروائی جارہی ہے۔ قبل ازیں جون میں ہوئے انتخابات کو آسٹریا کی آئینی عدالت نے ووٹوں کی گنتی میں بے ضابطگیوں کی بنا پر کالعدم قرار دے دیا تھا جن میں وان در بیلن نے 31 ہزار ووٹوں کی سبقت سے انتخاب جیت لیا تھا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس بار ہوفر کو امریکہ اور یورپ میں سامنے آنے والی اسٹیبلشمنٹ مخالف سوچ کی وجہ سے فائدہ ہو سکتا ہے جس کی ایک حد تک وجہ برطانیہ کے یورپی یونین سے الگ ہونے کا فیصلہ اور امریکہ کے صدراتی انتخاب میں ڈونلٹ ٹرمپ کی جیت ہے۔ اس سوچ کو پناہ گزینوں کے بحران شروع ہونے کے بعد برسلز، پیرس اور فرانس کے دیگر علاقوں میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی وجہ سے بھی تقویت ملی ہے۔

XS
SM
MD
LG