رسائی کے لنکس

نیویارک: مفرور ملزمان کی تلاش کے لیے پولیس کے چھاپے


مفرور قیدیوں کی تلاش کے لیے پولیس کی چھاپہ مار کارروائیاں جاری ہیں۔

مفرور قیدیوں کی تلاش کے لیے پولیس کی چھاپہ مار کارروائیاں جاری ہیں۔

انتہائی جدید ہتھیاروں سے لیس درجنوں پولیس اہلکاروں نے منگل کو ولس بورو نامی قصبے کے نزدیک کئی فارم ہاؤسز اور کھیتوں کی تلاشی لی۔

امریکہ کی ریاست نیویارک میں پولیس نے گزشتہ ہفتے انتہائی سخت سکیورٹی والی جیل سے فرار ہونے والے دو قیدیوں کی تلاش کے لیے کئی مقامات پر چھاپے مارے ہیں۔

انتہائی جدید ہتھیاروں سے لیس درجنوں پولیس اہلکاروں پر مشتمل ٹیموں نے منگل کو ولس بورو نامی قصبے کے نزدیک کئی فارم ہاؤسز اور کھیتوں کی تلاشی لی۔

پولیس کو ایک شخص نے اطلاع دی تھی کہ اس نے پیر کی شب اس علاقے میں ایک کچے راستے پر برستی بارش کے دوران دو افراد کو دیکھا تھا جو گاڑی کی روشنیاں دیکھنے کے بعد جنگل میں غائب ہوگئے تھے۔

پولیس حکام کا خیال ہے کہ کینیڈا کی سرحد کے نزدیک واقعے قصبے ڈین مورا میں قائم جیل سے گزشتہ ہفتے فرار ہونے والے دونوں ملزمان تاحال پیدل اور مسلسل سفر میں ہیں۔

پولیس نے بدھ کی صبح ڈین مورا قصبے میں جیل کی عمارت کے نزدیک واقع کئی گھروں کی بھی تلاشی لی ہے۔ کینیڈا کی سرحد مذکورہ قصبے سے محض 25 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

حکام نے قصبے کے رہائشیوں سے کہا ہے کہ وہ پولیس کی بھاری نفری کی موجودگی سے پریشان نہ ہوں اور کسی بھی غیر معمولی بات کی اطلاع فوراً پولیس کو دیں۔

جیل حکام کا کہنا ہے کہ دونوں قیدی 'کلنٹن کریکشنل فیسیلٹی' نامی جیل میں ایک دوسرے سے متصل کوٹھڑیوں میں قید تھے اور ہفتے کی شب فرار ہوگئے تھے۔ قیدیوں کے نام ڈیوڈ سوئٹ اور رچرڈ میٹ ہیں۔

جیل حکام کے مطابق دونوں قیدی مختلف آلات کے ذریعے اپنی کوٹھڑیوں کی دیواریں توڑ کر باہر آئے تھے اور جیل کے دو فٹ قطر کے سیوریج پائپ میں کئی سو فٹ تک گھسٹنے کے بعد ایک گٹر کے ذریعے جیل کے نزدیک واقع گلی میں نکلنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس بارے میں تفتیش کر رہے ہیں کہ دونوں قیدیوں کو جیل میں آلات کیسے پہنچے اور جیل کے محافظوں اور دیگر قیدیوں نے دیوار توڑے جانے کی آواز سنی ان سنی کیسے کردی۔

جیل ریکارڈ کے مطابق ڈیوڈ سوئٹ 2002ء میں ایک سرکاری اہلکار کے قتل کے الزام میں عمر قید کاٹ رہا تھا جب کہ رچرڈ میٹ کو 1997ء میں ایک شخص کو لوٹنے اور اغوا کے بعد قتل کرنے کے الزامات میں 25 سال قید کی سزا ہوئی تھی۔

ریاست نیویارک کے گورنر اینڈریو کوامو نے دونوں قیدیوں کے فرار کے بعد اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ دونوں مفرور مجرموں کو جیل سے فرار میں اندرونی یا بیرونی عناصر کی مدد حاصل تھی۔

XS
SM
MD
LG