رسائی کے لنکس

پاکستان ميں آٹزم کي بيماري کا بڑھتا ہوا مسئلہ

  • شہناز نفیس

آٹيزم ميں مبتلا بچے بظاہر نارمل نظر آتے ہيں تاہم ان کو بات چيت ميں دشواري پيش آتي ہے اور اپنے خيالات يا احساسات کا صحيح طور پر اظہار نہيں کر سکتے ، عام چيزوں سے کھيلنا پسند نہيں کرتے ، الگ تھلگ رہتے ہيں اور عموما بات کا جواب نہيں ديتے۔

ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں تقریبا ساڑھے تین لاکھ بچے آٹئزم میں مبتلا ھیں ۔ اور ان کي تعداد ميں بظاہر دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

اس بیماری ميں مبتلا بچوں کي تشخیص ، علاج اور ۱نکو ٹريننگ کے حوالے سے پاکستان میں ایک سرگرم کارکن ، ڈاکٹر بينش جمال نے ،جو اسلام آباد ميں ھمارا آنگن کے نام سے ايک ادارہ چلا رہي ہيں ، وائس آف امريکہ کي اردو سروس کو ايک انٹرويو ميں بتايا کہ آٹيزم ميں مبتلا بچے بظاہر نارمل نظر آتے ہيں تاہم ان کو بات چيت ميں دشواري پيش آتي ہے اور اپنے خيالات يا احساسات کا صحيح طور پر اظہار نہيں کر سکتے ، عام چيزوں سے کھيلنا پسند نہيں کرتے ، الگ تھلگ رہتے ہيں اور عموما بات کا جواب نہيں ديتے۔

اس سوال کے جواب ميں کہ ايک ماں اس بات کا کہ کہيں اس کا بچہ آٹيزم ميں مبتلا تو نہيں ، شناخت کيسے کر سکتي ہے ؟ بينش جمال کا کہنا تھا کہ ماں کو اس بات کا خيال رکھنا چاہيے کہ اگر بچہ اٹھارہ ماہ کے بعد بھي بات چيت نہ کرے يا بولتے بولتے رک جاتا ہو ، اس کي عادتيں عام بچوں سے مختلف ہوں ، خوراک کو چبائے بغير کھانا يا پھر کھانے کے بعد قے کرتا ہو ، اور بات کرتے وقت نظريں نہ ملائے ، تو آٹيزم کے خاص ٹسٹ کروانے چاہئں۔

آٹيزم کي وجوہات بيان کرتے ہوئے ڈاکٹر بينش کا کہنا تھا کہ اسکے عوامل جينياتي بھي ہو سکتے ہيں ، نفسياتي بھي اور ان کا ماحو ل سے بھي تعلق ہو سکتا ہے۔ اس بيماري کے امکانات ان بچوں ميں زيادہ ہوتے ہيں جو جڑواں پيدا ہوں ، يا وقت سے پہلے يا پھر جن کا وزن پيدا ئش کے وقت کم ہوں ۔ اسکے علاوہ ايسے والدين جن کا پہلا بچہ آٹيزم ميں مبتلا ہو ، بہت ممکن ہے کہ اس کا دوسرا بچہ بھي آٹسٹک پيدا ہو۔

پاکستان ميں آٹيزم ميں مبتلا بچوں کے علاج اور دستياب سہولتوں کے بارے ميں ڈاکٹر بينش کا کہنا تھا کہ چونکہ اس بيماري کے حوالے سے پاکستان ميں اسوقت آگاہي کم ہے اسلئے يہ سہولتيں بھي اتني تسلي بخش نہيں ہيں تاہم انکا يہ بھي کہنا تھا کہ بہت کم کيسز ميں يہ بچے علاج کے بعد تندرست بھي ہو جاتے ہيں۔

بينش جمال کا کہنا ہے کہ بہت سے ممالک کي طرح پاکستان ميں بھي آٹيزم کو معيوب سمجھ کر چھپا يا جاتا ہے جس کي وجہ سے وہ اپنے ہم عمر بچوں سے ہميشہ پيچھے رہتے ہيں اور يوں وہ احساس کمتري ميں مبتلا ہو جاتے ہيں۔ وہ کہتي ہيں کہاگر والدين وقت پر ايسے بچوں کي نشاندہي کريں تو ان کو مزيد ذہني يا جسماني بيماريوں سے بچا يا جا سکتا ہے۔

ہمارا آنگن ادارے کے بارے ميں ڈاکٹر بينش کا کہنا تھا کہ اس ادارے کا مقصد آٹيزم ميں مبتلا بچوں کو مين سٹريم سکولوں ميں لانا ہے ، جہاں نہ صرف آٹسٹک بچوں کو بلکہ انکے والدين کو بھي ٹريننگ دي جائينگي ۔ ڈاکٹر بينش کے مطابق اس ادارے ميں ان بچوں کے لئے سائيکو تھيراپسٹ ، سا ئيکو لوجسٹ اور سپيچ تھراپسٹ بيک وقت دستياب ہونگے۔وہ کہتي ہيں کہ ادارہ خاص طور پر ان لوگوں کي طرف توجہ دے گا جو اپنے بچوں کو علاج کے لئے ملک سے باہر لے جانے کي صلاحيت نہيں رکھتے۔

مزید تفصیلات کے لیے یہ آڈیو ملاحظہ کریں۔

XS
SM
MD
LG