رسائی کے لنکس

’جب تک ایولانچ متحرک ہوتا ہے، یہ برفیلا پانی ہوتا ہے۔ لیکن، پھر، فورا ًمنجمد ہو جاتا ہے۔ اِس طرح ، نہ صرف درجہ ٴحرات انسانی زندگی کے لیے خطرہ ہوتا ہے، بلکہ برف کا وزن اور آکسیجن کا نہ ہونا، جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔ اِسی طرح ، بعض اوقات برف کے ساتھ بھاری پتھر بھی لڑھک آتے ہیں جو زندگی کے لیے خطرہ ہوتے ہیں‘

پاکستانی فوج کے شعبہٴ انجنیرنگ سے وابستہ رہنے والے، سابق لیفٹیننٹ کرنل منظور حسین نے، جو آج کل الپائن کلب آف پاکستان کے صدر ہیں، بتایا ہے کہ سیاچن میں ’جِس شدت اور حجم‘ کا ایولانچ گرنے کا واقعہ پیش آیا ہے، اس میں تاریخی اعتبار سے، برف میں دبے افراد کے بچنے کے امکانات ’نہ ہونے کے برابرہیں‘۔

البتہ، ایگلوز(شیشے کی گنبد نماعمارت) میں اگر کچھ لوگ ہیں، تو اُن کے زندہ رہنے کے امکانات ہوسکتے ہیں۔

’وائس آف امریکہ‘ سےگفتگو میں اُنھوں نے بتایا کہ ایسے علاقوں میں امدادی کارروائیاں بھی مشکل ہوتی ہیں، کہ وہاں ہیوی مشینری لے جانا از حد مشکل ہوتا ہے، اورجب تک ایولانچ متحرک ہوتا ہے، یہ برفیلا پانی ہوتا ہے۔ لیکن پھر، فورا ًمنجمد ہو جاتا ہے۔ اِس طرح ، نہ صرف درجہ ٴحرات انسانی زندگی کے لیے خطرہ ہوتا ہے، بلکہ برف کا وزن اور آکسیجن کا نہ ہونا، جان لیوا ثابت ہوا کرتا ہے۔ اِسی طرح ، بعض اوقات برف کے ساتھ بھاری پتھر بھی لڑھک آتے ہیں جو زندگی کے لیے خطرہ ہوتے ہیں۔

یہ معلوم کرنے پر کہ کیا گلیشر پوسٹس پر اہلکاروں کو تجویز کیا جاتا ہے کہ وہ ہروقت ایک ایمرجنسی کٹ ساتھ رکھیں، کرنل منظور حسین کا کہنا تھا کہ، کیونکہ، یہ ایولانچ انتہائی غیر متوقع تھا اور یہ پوسٹ گزشتہ 20 برسوں سے یہاں موجود تھی، تو اس بات کے امکانات کم ہی ہیں کہ اہلکارہروقت ایمرجنسی کٹ اپنے جسم کے ساتھ لیے پھرتے ہوں۔

عموما ایمرجنسی کٹ اُس وقت ساتھ رکھی جاتی ہے جب ایولانچ حرکت میں ہوں۔

انہوں نے بتایا کہ برف میں دبا کوئی بھی شخص زیادہ سے زیادہ دو سے تین گھنٹے تک زندہ رہ سکتا ہے اور وہ بھی اُس صورت میں کہ کم ازکم ہوا کا گزر ہو یا اُس کے منہ کے سامنے کچھ نہ ہو۔

کرنل (ر) منظور کا کہنا تھا کہ سیاچن گیاری سیکٹر میں پیش آنے والے اِس حادثے کے بعد اگر کچھ لوگوں کو زندہ نکال لیا جاتا ہے تو یہ کسی معجزے سے کم نہ ہو گا۔

اِس سے قبل، پاکستان کی فوج کے شعبہٴ تعلقاتِ عامہ کے ڈائریکٹرجنرل، میجر جنرل اطہر عباس نے ’وائس آف امریکہ اردو سروس‘ سے گفتگو میں بتا یا ہے کہ سیاچن گلیشئرمیں گیاری سیکٹر میں واقع ایک فوجی چیک پوسٹ ہفتے کی صبح 6 بجے ایک بڑے برفانی تودے کی لپیٹ میں آ گئی، جس میں 117 سترہ فوجی دب گئے ہیں۔

ہیلی کاپٹروں، دیگر مشینری اور سراغ رساں کتوں کی مدد سے امدادی کارروائیاں جاری ہیں، مگر تاحال کسی کوزندہ یا مردہ نکالنے میں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ بیس برسوں سے یہ چیک پوسٹ یہاں قائم تھی۔ اور اِس لحاظ سے یہ ایک غیرمعمولی واقعہ ہے کہ عموما شام کے اوقات میں تودے گرنے کی توقع کی جاتی ہے، جب درجہ حرارت قدرے زیادہ ہوتا ہے۔مگر، یہ حادثہ علی الصبح پیش آیا۔ اُن کے بقول، ’ایولانچ کی شدت ایک مربع کلومیٹر تھی‘۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG