رسائی کے لنکس

فلم اواتار کی کامیابی کے بعد تھری ڈی ٹیلی ویژن کی فروخت شروع


فلم اواتار کی کامیابی کے بعد تھری ڈی ٹیلی ویژن کی فروخت شروع

فلم اواتار کی کامیابی کے بعد تھری ڈی ٹیلی ویژن کی فروخت شروع

تھری ڈی فلم اواتار کی کامیابی کے بعد تھری ڈی ٹیکنالوجی کی مانگ میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ اسی پسندیدگی کو مد نظر رکھتے ہوئے، اس مہینے بہت سے مینو فیکچررز نے تھری ڈی ٹیلی ویژن کی فروخت بھی شروع کر دی ہے۔

ہالی ووڈ کی تاریخ کی کامیاب ترین فلم اواتار نے تھری ڈی ٹیکنالوجی اور تھری ڈی ٹیلی ویژن کے لیے بھی راستے کھول دیےہیں۔

ایک الیکٹرانک کمپنی کے مطابق ،اس نے سب سے پہلا تھری ڈی ہوم انٹرٹینمنٹ سسٹم اس نے نیو یارک کے رہائشی بریڈ اور ایشلی کو 3100 ڈالرز میں فروخت کیاہے

بریڈکا کہنا ہے کہ میری بیوی امید سے ہے، اور ہم بہت سی تھری ڈی فلمیں دیکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ان کی اہلیہ ایشلی کہتی ہیں کہ میں بہت خوش ہوں، ہما را بچہ امریکہ میں پہلا ہو گا جواپنے گھر میں تھری ڈی فلمیں دیکھے گا۔

یہ ایک مکمل طور پر بہترین تجربہ ہے جو آپ کو اپنے گھر میں سینما گھر جیسا احساس دیتا ہے۔ اواتار کے بعد فلم ایلس ان ونڈر لینڈ بھی تھری ڈی میں پیش کی جا رہی ہے ۔ جبکہ فلم ساز ادارے آنے والے مہینوں میں بہت سی تھری ڈی فلمیں نمائش کے لیے پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

بلوم برگ میڈیا کے مائیک وہائٹ تھری ڈی ٹیلی ویژن کی فروخت بڑھنے کی پیش گوئی کر رہے ہیں ۔وہ کہتے ہیں کہ جو میں دیکھ رہا ہوں اور ریسرچ فرم ان سائٹ میڈیا کے اعداد و شمار کے مطابق ان ٹیلی ویژن کی فروخت تیس لاکھ سے بڑھ کر2015 ء میں پچاس ملین تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ پوری دنیا کے اعداد و شمار ہیں۔

شرو کٹیم جی ، پیناسونک امریکہ کے صدر ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی کمپنی نے امریکہ میں تھری ڈی ٹیلی ویژن آزمائشی طور پر متعارف کرایا ہے تاکہ دیکھا جا سکے کہ امریکی شائقین اس پر پیسہ خرچ کرنے کے لیے تیار ہیں یا نہیں،۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک لاکھ صارفین سے کئے گئے سروے کے سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ صارفین تھری ڈی ٹی وی پر پیسہ خرچ کرنے کےلیے تیار ہیں۔

کھیلوں اور فلموں کے چینلز تھری ڈی ٹیکنالوجی کی پیش رفت میں اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔ ای ایس پی این کا کہنا ہے کہ وہ اس سال ورلڈ کپ مقابلوں سے پہلا تھری ڈی نیٹ ورک کھولنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

ٹونٹیتھ سینچری فاکس کا کہنا ہے کہ وہ آئس ایج جیسی اپنی مشہور فلموں کا تھری ڈی اور بلو رے ورژن ڈائرکٹ ٹی وی پر پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ جس کے تھری ڈی چینلز جون میں شروع ہو رہے ہیں۔

پاپولر سائنس میگزین کی ایڈیٹر لارین ایرونسن کا کہنا ہے کہ بلو رے ٹیکنالوجی بھی تھری ڈی ٹیلی ویژن کے پیش رفت میں اہم ثابت ہوئی ہے۔

یہ ٹیلی ویژن کافی عرصے سے موجود ہیں لیکن اب ان کی مقبولیت میں اضافے کی وجہ بلیو رے پلیئرز ہیں جو تھری ڈی فلمیں دکھا سکتے ہیں ۔ اس سے پہلے گھر پر تھری ڈی فلمیں دیکھنے کا کوئی ذریعہ نہ تھا۔

تھری ڈی ٹیلی ویژن کے لیے خاص عینک کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اس وقت ٹیلی ویژن سیٹ ایک عینک کے ساتھ فروخت ہو رہا ہے اور اضافی عینک کے لیے آپ کو 150ء ڈالرز دینے پڑتے ہیں۔ لیکن تھری ڈی ٹیلیویژن کو ہاتھوں ہاتھ لیا جا رہا ہے۔

اواتار نے تھری ڈی ٹیکنالوجی کی مانگ میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہےجو اینٹرٹینمنٹ الیکٹرانکس کی دنیا میں زبردست تبدیلی لاسکتا ہے ۔

XS
SM
MD
LG