رسائی کے لنکس

یہ نومبر دو ہزار سات کی بات ہے ۔۔۔ جینز پر سفید قمیض اور جاگرز پہنے میں لاہور کی مال روڈ پر بھاگتے ہوئے ٹھوکر لگنے سے گر گئی جس سے میرے ہاتھ چھل گئے تھے۔

لیکن زخموں کی پرواہ کیے بغیر پھر سے بھاگنا شروع کر دیا کیونکہ اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔ کیونکہ مال روڈ پر احتجاج کرنے والے وکلاء پر پنجاب پولیس نے اندھا دھند لاٹھی چارج شروع کر دیا تھا۔

پنجاب بھر کے وکلاء چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججوں کی غیر قانونی معطلی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے اور میں رپورٹر کے طور پر اس احتجاج کی کوریج کر رہی تھی۔ وکلاء لاٹھی چارج سے بچنے کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں پناہ لینے لگے۔ میں بھی اپنی کیمرہ ٹیم کے ساتھ لاہور ہائی کورٹ میں داخل ہو گئی لیکن وکلاء کی بھاگ دوڑ میں ٹیم سے آگے نکل گئی۔

ہائی کورٹ کے احاطے میں پہنچتے ہی فائرنگ کی آواز سنائی دینے لگے۔ چند لمحوں بعد میری آنکھوں میں ایسی جلن شروع ہوئی جیسے کسی نے سرخ مرچیں آنکھوں میں دھول دی ہوں ساتھ ہی سانس لینے میں اتنی دشواری ہونے لگی کہ سانس کھینچ کھینچ کر ہلک چھلنی ہو گیا آنکھ اور ناک سے مسلسل پانی بہنے لگا۔ معلوم ہوا کہ پولیس اہلکار لاہور ہائی کورٹ میں گھس چکے ہیں اور انہوں نے آنسو گیس کے گولے پھینکنا شروع کر دیے ہیں۔

(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)



میرے اردگرد موجود وکلاء کی حالت بھی مجھ سے مختلف نہیں تھی۔ بلکہ چند بزرگ وکلاء کی حالت انتہائی خراب ہونے لگی۔ پروٹیکشن ماسک پہنے پولیس اہلکاروں نے ہائی کورٹ میں گھس کر وکلاء پر خوب لاٹھی چارج کیا اور انہیں گرفتار کرنا شروع کر دیا۔

میں آنسو گیس سے بے حال لیڈیز بار روم جا پہنچی لیکن پولیس اہلکار خواتین وکلاء کا احترام کیے بغیر بار روم میں گھس آئے اور تمام دروازے کھڑکیاں توڑ ڈالے اور یہاں بھی سب کی گرفتاری شروع کر دی۔ اس روز چھ سو سے زائد وکلاء کو گرفتار کیا گیا تھا۔

جنرل پرویز مشرف کی جانب سے ملک کے عدالتی نظام میں مداخلت، ایمرجنسی کے نفاذ اور ججوں کی معطلی کے خلاف ملک بھر میں احتجاج جاری تھے۔ لیکن صدر پرویز مشرف عوامی مخالفت کے باوجود اپنے تمام اختیارات اور طاقت کا استعمال کرتے رہے ۔

مگر دو رو ز قبل ایک خبر نے مقافات عمل کی ایک جیتی جاگتی تصویر میرے سامنے پیش کر دی ۔ جب پرویز مشرف ضمانتوں میں توسیع کے سلسلے میں ایک عام ملزم کی طرح سندھ ہائی کورٹ میں پیش ہوئے۔ وہاں موجود وکلاء نے ان کے خلاف احتجاج بھی کیا اور بچتے بچاتے آخر وہ عدالت سے بحفاظت نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عدالتیں قانون کا مذاق بنانے والے شخص کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG