رسائی کے لنکس

اپنے گردو نواح اور سوسائیٹی میں تبدیلی لانے کے لئے ہمیں بھی اپنے ذہنوں میں ’’آپریشن راہ راست‘‘ کی ضرورت ہے۔

’’سب نے میرے لئے دعا کی ۔۔ ان دعاوں کی وجہ سے خدا نے مجھے نئی زندگی دی۔۔ یہ زندگی مجھے دوسری دفعہ ملی ہے جس میں، میں لوگوں کی خدمت کرنا چاہتی ہوں۔۔ میں چاہتی ہوں کہ ہر لڑکی اور ہر بچہ تعلیم حاصل کرے۔۔۔ـ‘‘

قاتلانہ حملے کے بعد یہ ملالہ یوسف زئی کا پہلا انٹرویو تھا۔ مجھے یہ انٹرویو دیکھنے کا اتفاق فیس بک پر ہوا، ملالہ کے انٹرویو کی ویڈیو ایک دوست نے فیس بک پر شئیر کی تھی۔ جہاں یہ انٹرویو کروڑوں پاکستانیوں کے لئے ایک خوشی کی خبر تھی وہیں اس حملے کو سازش قرار دینے والوں نے ایک بار پھر طرح طرح کی کہانیاں بنانی شروع کر دیں۔ جنہیں پڑھنے کا اتفاق بھی مجھے فیس بک پر ہی ہوا۔


ملالہ پر حملے اور طالبان کی جانب سے اس حملے کی ذمہ داری لینے کے بعد پاکستان میں اپنے حقوق کے لئے لڑنے والی خواتین کی جدوجہد ابھر کر دنیا کے سامنے آئی ہے اور دنیا بھر میں پاکستانی خواتین کی اس جدوجہد کا نہ صرف اقرار کیا گیا ہے بلکہ انہیں خوب سراہا بھی گیا ہے ۔ لیکن پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں ملالہ کے حادثے کو غلط رخ دے کر خواتین کے حقوق جیسے اہم معاملے سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

کسی بھی حادثے کو سازش قرار دینا کوئی نئی بات نہیں لیکن ملالہ پر قاتلانہ حملے کو سازش ثابت کرنے کے لئے جو بھونڈے جواز پیش کئے جا رہے تھے وہ میرے لئے انتہائی حیران کن ہیں لیکن اس سے بھی افسوس ناک ہے، لوگوں کا رویہ۔۔۔۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ملالہ پر حملہ ایک ڈرامہ ہے۔ کچھ لوگ ملالہ کی امریکی حکام کے ساتھ تصاویر شائع کر کے یہ کہہ رہے ہیں کہ ملالہ امریکہ کے کسی خفیہ ایجنڈے پر کام کر رہی تھی۔ اور سب سے افسوس ناک ہے، لوگوں کی بڑی تعداد کا رویہ جو طالبان کی جانب سے دئیے جانے والے حملے کے اس جواز کا مکمل ساتھ دے رہے ہیں۔ جس میں طالبان نے ملالہ کو تعلیم حاصل کرنے اور شدت پسندوں کی کاروائیوں کے خلاف آواز اٹھانے کو ’غیر اسلامی‘ عمل قرار دیا ہے۔

یہ سب دیکھ کر وہیں مجھے خیال آیا کہ یقینا اسلام کی حقیقی تعلیمات کا علم رکھنے والے حضرات طالبان کے اس جواز سے کبھی اتفاق نہیں کریں گے۔

لیکن ہم میں سے بہت سے لوگوں میں بھی ایک طالبان چھپا ہے جو طالبان کے اس جواز کو معقول قرار دے رہا ہے۔ اور شاید ہمارے اندر چھپا یہ طالبان ہی سب سے خطرناک طالبان ہے۔ جو معاشرے میں ہونے والی ہر بہتری کے خلاف کوئی مذہبی جواز تلاش کرتا ہے، چاہے وہ تبدیلی خواتین کے حقوق کے حصول کے حوالے سے ہویا معاشرے میں اعتدال پسندی کے حوالے سے ہو۔

اپنے گردو نواح اور سوسائیٹی میں تبدیلی لانے کے لئے ہمیں بھی اپنے ذہنوں میں ’’آپریشن راہ راست‘‘ کی ضرورت ہے۔ یعنی ہمیں بھی اپنے اندر کے طالبان کو مارنا ہو گا۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG