رسائی کے لنکس

چارصحافیوں کے لیے عالمی ایوارڈ


چارصحافیوں کے لیے عالمی ایوارڈ

چارصحافیوں کے لیے عالمی ایوارڈ

تنظیم نے دنیا کے ان 25 صحافیوں کی فہرست بھی مرتب کی ہے جنہیں پچھلے سال اپنی پیشہ وارانہ سرگرمیوں کی ادائیگی کے دوران اپنی جانوں سے ہاتھ دھونے پڑے ۔ ان میں پاکستانی صحافی بھی شامل ہیں۔

آج صحافیوں کی ایک بین الاقوامی تنظیم کی جانب سے نیویارک میں دنیا کے چارایسے صحافیوں کو ایوارڈز دیے جارہے ہیں جنہوں نے نامساعد حالات کے باوجود آزادی صحافت کا پرچم بلند رکھا اور اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دیں۔ تنظیم نے دنیا کے ان 25 صحافیوں کی فہرست بھی مرتب کی ہے جنہیں پچھلے سال اپنی پیشہ وارانہ سرگرمیوں کی ادائیگی کے دوران اپنی جانوں سے ہاتھ دھونے پڑے ۔ ان میں پاکستانی صحافی بھی شامل ہیں۔

لیرینو مارکوز ، ونزویلا سے تعلق رکھنے والے ایک ادیب ہیں جو اپنی سیاسی مضامین میں مزاحیہ رنگ شامل کرتے ہیں۔

ان کاکہناہے کہ ہم ان لوگوں کی آواز ہیں جو اپنی آواز باہر نہیں پہنچا سکتے یا میڈیا تک نہیں پہنچ پاتے۔ میرے نزدیک مزاح ہمیشہ سے ہی سماج کی آواز رہا ہے۔

ونزویلا کی حکومت لیرینو کے خلاف مقدمہ چلانا چاہتی ہے۔ ان کاکہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے ان کے کام پر یہ رد ِ عمل اس بات کا ثبوت ہے کہ ونزویلا میں میڈیا کے حقوق کی پامالی کی جا رہی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ذرائع ابلاغ کی وہ تنظیمیں جو حکومت پر تنقید کر رہی ہیں، انہیں بند کر دیا ہے جبکہ بہت سی میڈیا کی تنظیموں نے اپنے اوپر خود سنسر لگایا ہوا ہے۔ احتجاج کرنے والوں کو مجرم بنادیا جاتا ہے۔ یوں بہت کم لوگ احتجاج کے لیے باہر آتے ہیں۔

روس سے تعلق رکھنے والی نادرا یسواکو بھی مقدمے کا سامنا ہے۔ وہ ڈاگسٹن کے جنوب سے شائع ہونے والے ہفتہ وار اخبار کی ایڈیٹر ہیں ۔ انہوں نے روسی حکومت کی اسلامی مجاہدوں کے خلاف لڑائی کے حوالے سے تحریریں لکھی تھیں۔ ان پر حکومت کی جانب سے شدت پسندی کا الزام ایک سابقہ گوریلا ارہنما کا انٹرویو جس نے حکومت کے کرپشن میں ملوث ہونے کی بات کی تھی، شائع کرنے پر لگایا گیا تھا۔ انہیں آٹھ سال کی قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔ مگر انکا کہنا ہے کہ انہیں پریس فریڈم ایوارڈ ملنے کی اتنی ہی خوشی ہے جتنی جیل سے رہائی کی ہو سکتی ہے۔

ایتھوپیا نے 2005 میں ہونے والے انتخابات میں تشدد کی رپورٹنگ پرڈیویٹ کبیڈے کو دو سال کے لیے پابند ِ سلاسل کیا۔ گو کہ ان کے بہت سے دوست ملک چھوڑ گئے تھے لیکن وہ ایتھوپیا میں ہی رہے۔ ان کے نزدیک حکومتی سختیاں انہیں اپنے کام کی جانب مزید اکساتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جب حکومت آپ پر مختلف طریقوں سے دباؤ ڈالتی ہے تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ درست انداز سے کام کر رہے ہیں۔

ایرانی صحافی محمد داواری اس وقت جیل میں ہیں اور یہ ایوارڈ لینے کے لیے خود نہیں آ سکتے۔ ان پرگذشتہ برس ایرانی انتظامیہ کی جانب سے جیلوں میں قیدیوں سے پرتشدد سلوک کے بارے میں ایک رپورٹ شائع کرنے کی وجہ سے حکومت ِ وقت کے خلاف بغاوت کے الزام لگائے گئے ہیں۔
صحافیوں کے تحفظ کی تنظیم کے سربراہ جول سائمن کا کہنا ہے کہ داواری اس جرم کی پاداش میں جیل بھگت رہا ہے جو ہر صحافی کو کرنا چاہیے۔یعنی کرپشن اور تشدد کو منظرِ عام پر لانا۔

دیگر تین ایوارڈ یافتہ صحافیوں کو بھی جیل جانے کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔ مگر ان کا کہنا ہے کہ ان دھمکیوں سے ڈر کر وہ سچ لکھنا نہیں چھوڑ سکتے

XS
SM
MD
LG