رسائی کے لنکس

مشتاق یوسف زئی اور فاطمہ دونوں کے ہی بچے آرمی پبلک اسکول میں پڑھتے ہیں، جو گھنٹوں کے جان لیوا انتظار کے بعد، اپنے اپنے گھروں کو واپس آگئے۔۔۔۔ یہ کہانی انہی کی زبانی سنیئے۔

آج کون سی کہانی سنائی جاسکتی تھی ؟ ان بچوں کی کہانی جو کسی ’تاریک راہ‘ میں نہیں بلکہ اس درس گاہ میں مارے گئے جو ان کے روشن مستقبل کی ضامن تھی ؟ ان ٹیچرز اور عملے کی کہانی جو اپنی قوم کے مستقبل میں اپنا فرض ادا کرنا چاہتے تھے ؟؟ یا ان والدین کی کہانی جن کی سونی چوکھٹ اپنے ننھے مکینوں کا ختم نہ ہونے والا انتظار ہی کرتی رہ جائے گی ؟؟؟

مشتاق یوسف زئی اور فاطمہ دونوں کے ہی بچے آرمی پبلک اسکول میں پڑھتے ہیں، جو گھنٹوں کے جان لیوا انتظار کے بعد، اپنے اپنے گھروں کو واپس آگئے۔ ان گھنٹوں میں ان پر کیا بیتی۔ اور اب کس طرح ان والدین کا درد ان کا اپنا درد بن گیا ہے ، جو ان جیسے خوش نصیب نہیں تھے، یہ سنیے نیچے دیئے ہوئے آڈیو لنک پر کلک کرکے۔۔۔۔


XS
SM
MD
LG