رسائی کے لنکس

ایودھیہ فیصلے پر ردِ عمل کا سلسلہ جاری، مسلمانوں کی اکثریت نے اسےمسترد کردیا

  • سہیل انجم

ایودھیہ فیصلے پر ردِ عمل کا سلسلہ جاری، مسلمانوں کی اکثریت نے اسےمسترد کردیا

ایودھیہ فیصلے پر ردِ عمل کا سلسلہ جاری، مسلمانوں کی اکثریت نے اسےمسترد کردیا

قانون دانوں کی اکثریت نے فیصلے پرعدم اطمینان کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ فیصلہ نہیں بلکہ معاہدہ ہے

بابری مسجد رام جنم مندرتنازع پر الہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ آئے ہوئے ایک روز گزر چکا ہےاورملک میں ابھی تک کہیں پر بھی کوئی ناخوشگوار واقع پیش نہیں آیا جِس پر حکومت نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

مرکزی وزیرِ داخلہ پی چدم برم نے جمعے کے روز ایک اخباری کانفرنس میں کہا کہ ملک میں امن وامان قائم رہنے پر حکومت خوش اور مطمئن ہے۔

اُنھوں نے بتایا کہ وزیرِ اعظم نے بھی ایک بیان جاری کرکے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔اُنھوں نے کہا کہ عوام نے فیصلے کے بعد جِس ردِ عمل کا اظہار کیا ہے وہ وزیرِ اعظم کے مطابق باوقار ہے۔

وزیرِ اعظم نے یہ بھی کہا کہ ابھی فیصلے پر عمل درآمد نہیں ہوگا ممکن ہے کہ اِس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جائے۔

اُدھر بابری مسجد کی جانب سے پیروی کرنے والے سنی سینٹرل وقف بورڈ نے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں جانے کا اعلان کیا ہے۔متعدد تنظیموں اور سرکردہ شخصیات نے فیصلے پر اپنی ناخوشی ظاہر کی ہے۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور جامع مسجد دہلی کے امام مولانا سید احمد بخاری نے اپنے الگ الگ بیان میں کہا ہے کہ یہ حتمی فیصلہ نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کا دروازا کھلا ہے۔

تاریخ داں عرفان حبیب کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ نہیں بلکہ سمجھوتا ہے جو حقائق کو نظرانداز کرکے کیا گیا ہے۔

مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے سابق وائس چانسلر سید حامد کے مطابق بھارت میں مسلمانوں کو فیصلے کے توسط سے یہ واضح طور پر بتا دیا گیا ہے کہ اُنھیں اِس ملک میں اکثریت کی شرطوں پر رہنا ہوگا۔

ایک معروف سماجی کارکن شبنم ہاشمی کے مطابق وہ اِس فیصلے کی روشنی میں خود کو دوسرے درجے کا شہری محسوس کر رہے ہیں۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر نجیب جنگ کے خیال میں مسلمان اِس فیصلے سے بہت رنجیدہ ہیں۔

سماجوادی پارٹی کے صدر ملائم سنگھ یادیو نے کہا ہے کہ وہ اِس فیصلے سے خوش نہیں ہیں۔ یہ حقائق کی بنیاد پر نہیں بلکہ اعتقاد کی بنیاد پر دیا گیا ہے۔

قانون دانوں کی اکثریت نے بھی فیصلے پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ فیصلہ نہیں بلکہ معاہدہ ہے۔

بابری مسجد انہدام کی جانچ کرنے والے لبراہن کمیشن کے سربراہ حسن لبراہن کے مطابق یہ ایسا فیصلہ ہے جِس میں تنازع کا تصفیہ نہیں کیا گیا۔

بھارتیا جنتا پارٹی اور ہندو تنظیموں نے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے اور مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ رام مندر کی تعمیر میں بڑھ چڑھ کر تعاون دیں۔

XS
SM
MD
LG