رسائی کے لنکس

آزادکشمیر میں موروثی سیاست


آزادکشمیر میں موروثی سیاست

آزادکشمیر میں موروثی سیاست

پاکستان کے زیر انتظام آزادکشمیر میں26جون کو ہونے والے انتخابات کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کی طرف سے انتخابی مہم زور و شور سے جاری رہنے کے بعد جمعہ کی درمیانی شب رات بارہ بجے ختم ہوگئی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت آزادکشمیر کے تقریبا ًتمام اضلاع میں اپنے امیدوارووں کی انتخابی مہم پہلے ہی مکمل کر چکی تھی جبکہ ان کے بعد مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں محمد نواز شریف نے اپنے امیدواروں کی انتخابی مہم شروع کر کے صورتحال کو گرمادیا۔ انہوں نے اپنے دورہ آزاد کشمیر میں پیپلزپارٹی کی قیادت کے خلاف جو بیانات دیئے اس سے انتخابی دنگل میں اچانک تیزی آگئی۔

ان انتخابات میں حصہ لینے والوں سے متعلق ایک دلچسپ امر یہ ہے کہ یہاں زیادہ تر باپ اور بیٹے انتخابی میدانوں میں سرگرم عمل ہیں جبکہ سردار عتیق احمد خان سمیت چار سیاستدان ایسے ہیں جو وزیراعظم آزاد کشمیر رہ چکے ہیں جبکہ چار دیگر امیدوار سابق وزیر اعظم یا صدور کے بیٹے ہیں ۔ موروثی سیاست کی یہ جیتی جاگتی مثال ہے جسے چاندی کے ورق میں لپیٹ کر سیاسی قواعد وضوابط سے محفوظ رکھا گیا ہے۔

بیرسٹر سلطان سمیت تین دیگر وزرائے اعظم بھی انتخابی دنگل سجائے بیٹھے ہیں ۔ یہ چاروں وزیراعظم آزاد کشمیر رہ چکے ہیں اور پانچ پانچ سال کی آئینی مدت پوری کرچکے ہیں ۔ ان افراد نے 2006کے انتخابات میں بھی حصہ لیا تھا اور یہ ان انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی اسمبلی میں بھی رکن کی حیثیت سے بیٹھ چکے ہیں۔

بیرسٹرسلطان محمود ایک مرتبہ پھر پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر اپنے آبائی حلقہ انتخاب میر پور سے حصہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے اسی سال پیپلز پارٹی میں دوبارہ شمولیت اختیار کی ہے۔ اگر پیپلز پارٹی انتخاب میں کامیاب ہوجاتی ہے تو سلطان محمود کے مقابلے میں پیپلز پارٹی کے دو اور امیدوار چوہدری مجید اور چوہدری یاسین بھی وزیراعظم کی نشست کے لئے طاقتور امیدوار شمارہوں گے۔

سردار عتیق ، سردار عبدالقیوم کے بیٹے ہیں۔ سردار قیوم مسلم کانفرنس کے سینئر رہنما ہونے کے علاوہ کئی مرتبہ صدر کے عہدے پر بھی فائز رہ چکے ہیں۔ انہیں تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوجانے پر ہٹا دیا گیا تھا ۔ خود ان کی پارٹی نے تحریک عدم اعتماد کی حمایت کی تھی ۔ ان کی جگہ سردار محمد یعقوب کو وزیراعظم کے عہدے پر فائز کیا گیا۔ بعد میں سردار محمد یعقوب کو بھی ہٹا دیا گیا اور ان کی جگہ راجہ فاروق حیدر کو دے دی گئی جن کا تعلق مسلم کانفرنس سے ہے۔

بعدازاں راجہ فاروق کی قسمت کا حال بھی ایسا ہی ہوا لہذا سردار عتیق کودوبارہ وزیراعظم بنادیا گیا۔ سردار عتیق جو مسلم کانفرنس کے صدر بھی ہیں وہ اپنی آبائی نشست غازی آباد ، دیر کورٹ تحصیل ، ضلع باغ سے انتخاب لڑ رہے ہیں۔

سردار یعقوب پونچھ سدھنوتی کے حلقے سے انتخاب لڑ رہے ہیں ۔ انہیں پی پی پی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑایا جارہا ہے ۔

فاروق حیدر وزیراعظم کے عہدے سے برطرف کئے جانے کے بعد اب پی ایم ایل نون یعنی پاکستان مسلم لیگ نواز گروپ کی مقامی شاخ کے سربراہ ہیں اور مظفرآباد تھرڈ سٹی اور مظفر آباد پانچ سے انتخاب لڑ رہے ہیں ۔ یہ ان کا آبائی حلقہ ہے ۔

سردار سکندر حیات خان جو صدر اور وزیراعظم ، دونوں عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں اور اس وقت مسلم کانفرنس کے صدر بھی ہیں انہوں نے پاکستان مسلم لیگ نون کے ٹکٹ پر اپنے بیٹے فاروق سکندر کو انتخابات میں کھڑا کیا ہے ۔ یہ آبائی حلقے کوٹلی ٹو سے انتخابات میں شریک ہیں۔

فیصل ممتاز راٹھور جو سابق مرحوم وزیراعظم ممتاز راٹھور کے بیٹے ہیں ، پی پی کے ٹکٹ پر باغ ٹو کے حلقے سے میدان میں ہیں ۔ یہ ان کے والد کا آبائی حلقہ ہے ۔

سردار خالد ابراہیم مرحوم سردار ابراہیم خان کے بیٹے ہیں جو مسلم کانفرنس کے بانی رہنما تھے۔یہ بھی وزیر اعظم اور صدر کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ صدونوٹی تین کے حلقے سے انتخاب لڑ رہے ہیں ۔ یہاں ان کا مقابلہ سردار یعقوب سے ہوگا۔ خالد ابراہیم کا تعلق پی پی پی کے ایک دھڑے سے تھا ۔ یہ دھڑا اب اپنا وجود کھو چکا ہے۔ ان کا تعلق کشمیر پیپلز پارٹی سے ہے۔

آزاد کشمیر کے موجودہ وزیر اعظم سردار عتیق نے اپنے جواں سال بیٹے کو پاکستان مسلم لیگ نواز کے مقابلے کے لئے مظفر آباد شہر کے حلقہ سے مقابلہ کرنے کے لئے پاکستان مسلم لیگ ن کے راجہ فاروق حیدر کے خلاف ووٹ لینے کے لئے میدان میں اتارا ہے۔

XS
SM
MD
LG