رسائی کے لنکس

زبان سیکھنے کا عمل ماں کے پیٹ سے ہی شروع ہوجاتا ہے: نئی تحقیق

  • جمیل اختر

زبان سیکھنے کا عمل ماں کے پیٹ سے ہی شروع ہوجاتا ہے: نئی تحقیق

زبان سیکھنے کا عمل ماں کے پیٹ سے ہی شروع ہوجاتا ہے: نئی تحقیق

چھوٹے بچوں کے بارے میں بالعموم یہ سمجھا جاتا ہے کہ ان کے علم اور معلومات کا دائرہ بہت محدود ہوتا ہے لیکن ایک نئی تحقیق سے ظاہر ہواہے بچے اس سے کہیں زیادہ جانتے ہیں جتنا کہ ہم سوچ رہے ہوتے ہیں۔

بچوں کو کیا معلوم ہونا چاہیے اور انہیں یہ علم کب فراہم کیا جانا چاہیے؟ بچوں کے دماغ پر تحقیق کرنے والے ماہرین ان سوالوں کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کررہے ہیں۔

نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے ماہرین کوحال ہی میں ایک تحقیق سے یہ پتا چلا ہے کہ بچے بولنے کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ہی لفظوں کو پہچاننا اور انہیں مختلف چیزوں سے منسلک کرنا شروع کردیتے ہیں۔

ساڑھے چار ماہ کی عمر کو پہنچنے تک اگرچہ بچے بولناشروع نہیں کرتے لیکن ماں انہیں جوکچھ کہتی ہے ، وہ اس پر اپنا ردعمل ظاہر کرسکتے ہیں۔

نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے مطالعاتی جائزے اور کئی دوسری تحقیقات میں یہ بتایا ہے کہ والدین کے لیے سب سے بہتر عمل یہ ہے کہ وہ اپنے ننھے بچوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ بولیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں میں زبان سے متعلق مہارتیں اس وقت سے پیدا ہونی شروع ہوجاتی ہیں ، جب وہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے۔ کیمبرل ، اس وقت یونیورسٹی میں پڑھ رہی تھی جب اس کا بیٹا فن اسے کے پیٹ میں تھا۔وہ کہتی ہیں کہ میں اس وقت لاسکول کے آخری سمیٹر میں تھی۔ میرا بیٹا شاید اس لیے وکیل بن جائے کیونکہ اس وقت وہ بھی میرے پیٹ میں پروفیسر کا لیکچر سن رہا ہوتا تھا۔

پروفیسر کیتھی ہیرش پاسک(KATHY HIRSH-PASIK)، ٹمپل یونیورسٹی فلاڈیلفیا میں چھوٹے بچوں کی زبان سے متعلق شعبے کی سربراہ ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ہمارا خیال ہے کہ بچے کے دماغ میں زبان سے متعلق سرگرمی اس وقت سے ہی شروع ہوجاتی ہے جب وہ اپنی ماں کے پیٹ میں پرورش پارہا ہوتا ہے۔کیونکہ وہ اپنی ماں کی آواز سن رہا ہوتا ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ زبان سے متعلق بچوں پر زیادہ اثر اس وقت پڑتا ہے جب وہ گیت سنتے ہیں۔ کیتھی ہیرش پاسک کہتی ہیں کہ اس دور میں انہوں نے جو بول سنے ہوتے ہیں، ان میں سے کچھ انہیں یاد رہ جاتے ہیں۔جو انہیں اس وقت یاد آنے لگتے ہیں جب وہ زبان کی کلاس پڑھ رہے ہوتے ہیں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ بولنے سے پہلے لفظوں کو سمجھنے کا عمل شروع ہوتاہے۔ جب کوئی لفظ نوزائیدہ بچے کے کان میں پڑتا ہے تووہ اس کے دماغ میں ایک مخصوص کوڈ کی شکل میں محفوظ ہوجاتا ہے۔ پھر دماغ کئی تجربات سے گذرنے کے بعد اس کوڈ کا اردگرد کی چیزوں کے ساتھ ایک تعلق قائم کرتا ہے۔ اور اس کے بعد بولنے کا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بچے 11 یا 12 ماہ کی عمر سے سادہ لفظ بولنے کے قابل ہوجاتے ہیں اور آہستہ آہستہ دو تین لفظوں کو ملا کر بولنے لگتے ہیں ۔تاہم تین سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد وہ مکمل جملے بولنے اور اپنا مطلب بیان کرنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔

ایک اور مطالعے سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ جو بچے اپنے بچپن میں زیادہ بولتے ہیں ان کا آئی کیو سکور زیادہ ہوتا ہے اور بعد ازاں سکول میں جاکر وہ زیادہ اچھے نمبر لیتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG