رسائی کے لنکس

ہفتے کو ہونے والے حملوں کی فوری طور پر کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔ تاہم، داعش کا جہادی ٹولہ اکثر و بیشتر شیعہ اہداف پر حملے کرتا رہا ہے، جنھیں وہ بدعتی خیال کرتا ہے۔ داعش نے کہا ہے کہ جمعرات کے اِس حملے کے پیچھے اُسی کا ہاتھ ہو سکتا ہے

عراقی اہل کاروں نے بتایا ہے کہ بغداد کے شیعہ اکثریت والے مضافات میں ہونے والے ایک کار بم حملے میں 33 افراد ہلاک اور کم از کم 52 زخمی ہوئے ہیں۔

یہ دھماکہ ہفتے کے روز صدر سٹی کے حبیبیہ کے مضافات میں واقع ایک معروف آٹو ڈیلرشپ میں ہوا۔ یہ وہی ضلع ہے جہاں دو ہی روز قبل سبزی کے آڑہت کے کاروبار کی منڈی میں ٹرک میں نصب ایک بڑا بم دھماکہ ہوا تھا، جس میں 67 افراد ہلاک ہوئے۔ یہ ایک عشرے کے دوران بغداد میں ہونے والے شدید ترین حملوں میں سے ایک تھا۔

ہفتے کو ہونے والے اِس حملے کی فوری طور پر کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔ تاہم، جہادی، داعش کا ٹولہ اکثر و بیشتر شیعہ اہداف پر حملے کرتا رہا ہے، جنھیں وہ بدعتی خیال کرتا ہے۔ دولت اسلامیہ نے کہا ہے کہ جمعرات کے اِس حملے کے پیچھے اُسی کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔
حبیبیہ کی مشہور کار ڈیلرشپ کو ماضی میں متعدد بار نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

ہفتے ہی کو بغداد کے قرب و جوار میں کئی بم دھماکے ہوئے، جن میں کم از کم نو افراد ہلاک اور 33 زخمی ہوئے۔

پولیس نے بتایا ہے کہ سب سے بڑا حملہ بغداد کے جنوب میں واقع میدان کے قصبے میں اُس وقت ہوا، جب ایک بم دھماکے سے ایک مشہور مارکیٹ لرز اُٹھا، جس میں تین افراد ہلاک، جب کہ 10 زخمی ہوئے۔

تاجی میں، جو بغداد کے شمال میں واقع ہے، ایک بم گاڑیوں کی مرمت کی دکانوں میں پھٹا جس سے دو افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے۔

دیگر دھماکوں کا ہدف جسر دیالکہ اور اسکان کی مصروف تجارتی گلیاں اور مارکیٹ بنے۔

ایسے میں جب داعش کے شدت پسند دیگر مقامات پر لڑ رہے ہیں، حالیہ مہینوں کے دوران بغداد میں دھماکوں کے واقعات میں کمی آئی ہے۔

XS
SM
MD
LG