رسائی کے لنکس

بغداد بدستور خطرناک لیکن زندگی کی چہل پہل بحال

  • ایمن اوغانا

بغداد بدستور خطرناک لیکن زندگی کی چہل پہل بحال

بغداد بدستور خطرناک لیکن زندگی کی چہل پہل بحال

11 ستمبر ، 2001 کوجب دہشت گردوں نے امریکہ پر حملہ کیا، اس کے ساتھ ہی امریکہ کی خارجہ پالیسی تبدیل ہو گئی، اور اس وقت کے امریکہ کے صدر، جارج ڈبلو بُش نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا اعلان کر دیا۔ اسکے فوراً بعد امریکی فورسز نے افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملہ کیا۔ لیکن بُش انتظامیہ کی نظر میں صدام حسین کی حکومت بھی امریکہ کے لیے خطرہ تھی، اور مارچ 2003 میں امریکہ نے عراق پر حملہ کر دیا۔ آٹھ سال بعد بھی عراق کے دارالحکومت بغداد میں جنگ کے آثار نظر آتے ہیں۔

عراق میں خانہ جنگی ختم ہو چکی ہے ۔ دارالحکومت بغدادکی سڑکوں پر عراقی سیکورٹی فورسز کا مکمل کنٹرول ہے ۔ بازاروں میں ایک بار پھر چہل پہل ہے۔ دکانیں خریداروں سے بھری ہوئی ہیں۔ بغداد کے اسٹاک ایکسچینج میں لوگوں کا ہجوم ہے ۔

ہر طرف نئے ریستوراں نظر آتے ہیں۔میوزک بج رہا ہے اور آئس کریم کی دکانیں خریداروں سے بھری ہوئی ہیں.

شہر کے ان علاقوں میں جہاں کبھی کاربموں اور نشانہ لے کر گولی چلانے والوں کی وجہ سے سناٹا پڑا رہتا تھا ، نوجوان جوڑے پارکوں میں چہل قدمی کے لیے نکل آئے ہیں۔ لوگ اپنے بچوں کو لے کر سیر کے لیے آتے ہیں۔ برسوں کے فرقہ وارانہ تشدد، باغیوں کی چیرہ دستیوں اور گینگوں کی سرگرمیوں کے بعد، شہر کی رونقیں واپس آ گئی ہیں۔

صدام حسین کا تختہ الٹ دیے جانے کے بعد، شہر کی سڑکوں پر عراق کے سنّی اور شیعہ مسلح گروہوں، مجرموں کے ٹولوں اور قوم پرست جنگجوؤں کے درمیان آئے دن کی جھڑپوں سے یہ قدیم تاریخی شہر برباد ہو کر رہ گیا تھا۔ 2006 میں ایسا لگتا تھا کہ پورے ملک خانہ جنگی کی لپیٹ میں آجائے گا۔

آج خوف و دہشت کا وہ ماحول ختم ہو گیا ہے ۔ لیکن شہر کی ٹوٹی پھوٹی دیواریں، خار دار تار، بموں سے تباہ شدہ کاریں، آج بھی بغداد کے منظر نامے کا حصہ بنی ہوئی ہیں۔ بجلی کبھی ہوتی ہے اور کبھی نہیں۔ پانی کی فراہمی پر بھی اعتبار نہیں کیا جا سکتا ۔ پورے شہر میں پولیس اور فوج کے چیک پوائنٹ قائم ہیں، اور کبھی کبھی تشدد کی وارداتیں ہوتی ہیں۔ شہر میں ہر روز گھریلو ساخت کے بم پھٹتے ہیں، اور قتل کے واقعات بھی جاری ہیں۔

ٹریفک کی حالت بہت خراب ہے ۔ ٹوٹی پھوٹی دیواروں اور چیک پوائنٹس کی وجہ سے سڑکوں پر سخت ہجوم ہو جاتا ہے۔ پورے شہر کی بستیاں مذہبی عقائد کی بنیاد پر بٹی ہوئی ہیں۔

امریکی حملے کے بارے میں بغداد کےلوگوں کی یادیں بڑی تلخ ہیں، لیکن اندرونی حلقے کے سوا، صدام حسین کی کمی کسی کو محسوس نہیں ہوتی۔ان کی ناراضگی اور غصہ خود اپنی حکومت کے لیے ہے، جس کا شمار دنیا کی سب سے زیادہ بد عنوان حکومتوں میں ہوتا ہے۔ لیکن لوگوں کو پہلی بار تنقید کرنے کی آزادی ملی ہے۔

گیارہ ستمبر 2001 کے حملوں نے اس ملک کے مقدر پر بڑے گہرے اثرات مرتب کیے، لیکن بغداد میں بات چیت کے دوران کوئی نائن الیون کا ذکر نہیں کرتا۔ نہ ہی افغانستان کا ذکر آتا ہے ۔لوگوں کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے مقابلے میں،زیادہ دلچسپی امریکی ٹیلیویژن کی شخصیت Oprah Winfrey اور ترکی کے ٹیلیویژن ڈراموں سے ہے ۔

بغداد کا شہر غبار سے اٹا ہوا ہے اور یہاں ہر طرف افرا تفری محسوس ہوتی ہے۔ لیکن اس افراتفری میں ایک نیا شہر جنم لے رہا ہے، جو خطرات سے معمور ہے اور زندگی کی رعنائیوں سے بھی۔

XS
SM
MD
LG