رسائی کے لنکس

بحرین میں اتوار سے’فارمولا ون گرانڈ پری‘ مقابلوں کا آغاز ہوا، باوجود یہ کہ شدید نوعیت کےاحتجاجی مظاہروں میں اِس موٹر ریس کو حکمراں خاندان کی پُر تعیش سرگرمی قرار دیتے ہوئےاِس کی مذمت کی گئی ہے، جِس نےگذشتہ برس کے ’عرب اسپرنگ ‘ کےدوران ہونےوالے مظاہروں کوکچل کر رکھ دیا تھا۔

ٹائروں کو آگ لگانے کے واقعات کے نتیجے میں سیاہ دھنویں کےبادل دارالحکومت مناما کے قرب و جوار کے علاقے میں پھیل گئے ہیں، جس سے ایک روز قبل بڑی احتجاجی ریلی نکالی گئی تھی۔

14 فروری نامی اپوزیشن تحریک کی احتجاجی مظاہروں کی کال پرمتوقع مظاہروں کے خدشے کے پیشِ نظر شیعہ دیہات کے ا ردگرد سکیورٹی کو سخت کردیا گیا ہے۔ تحریک نے گرانڈ پری کو سہ روزہ غم و غصے کے دنوں کےطور پر منانے کا عہد کیا ہے۔

ایسے میں جب بحرین کےحکمراں سنی خاندان نے مقابلوں کو جاری رکھنے کی ٹھان لی ہے، منتخب حکومت اور مساوی حقوق کے مطالبوں نے زورپکڑ لیا ہے۔ گذشتہ سال ہونے والےاحتجاجی مظاہروں کے نتیجے میں ریس کو معطل اور بعد ازاں منسوخ کردیا گیا تھا۔

تاہم، ولی عہد شہزادہ سلمان بن حماد بن الخلیفہ نےاس سال کے مقابلے منسوخ کرنے کے مطالبوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا کرنے سے محض انتہا پسندوں کے ہاتھ مضبوط ہوں گے۔

XS
SM
MD
LG