رسائی کے لنکس

بحرین: انسانی حقوق کی معروف شخصیت گرفتار


بحرین: انسانی حقوق کی معروف شخصیت گرفتار

بحرین: انسانی حقوق کی معروف شخصیت گرفتار

ان کی بیٹی کا کہناہے کہ مسلح افراد نے انہیں اتنا مارا کہ وہ بے ہوش ہوگئے اور پھر وہ انہیں اپنے ساتھ لے گئے۔ بیٹی کا کہناتھا کہ مسلح افراد ان کی والدہ ، خاوند اور ایک اور رشتے دار کو بھی اپنے ساتھ لے گئے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں اور عبدالہادی کے اہل خانہ کا کہناہے کہ بحرین کے حکام نے انسانی حقوق کے ایک معروف کارکن ہادی کو مارنے پیٹنے کے بعد گرفتار کرلیا۔ سرکاری عہدے دار ان دنوں حکومت مخالف مظاہرین کی پکڑدھکڑ کررہے ہیں۔

ان کا کہناہے کہ مسلح افراد نے، جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ پولیس کے اہل کار تھے، ہفتے کی صبح عبدالہادی الخواجہ کے گھر پر دھاوار بولا۔

ان کی بیٹی کا کہناہے کہ مسلح افراد نے انہیں اتنا مارا کہ وہ بے ہوش ہوگئے اور پھر وہ انہیں اپنے ساتھ لے گئے۔ بیٹی کا کہناتھا کہ مسلح افراد ان کی والدہ ، خاوند اور ایک اور رشتے دار کو بھی اپنے ساتھ لے گئے۔

بحرین کے حکام نے فوری طورپر اس واقعہ کی تصدیق نہیں کی۔

خواجہ بحرین کے سینٹر فار ہیومن رائٹس سمیت انسانی حقوق کی کئی تنظیموں کے عہدے دار ہیں۔

ان کی گرفتاری دوروز قبل انسانی ہمدری کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم نے بحرین کے حکام پر الزام لگایا تھا کہ وہ حکومت مخالف مظاہرین کو طبی امداد کے لیے اسپتال جانے سے روک رہے ہیں۔

جمعرات کے روز ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈز نے کہاتھا کہ بحرین کی سیکیورٹی فورسز طبی سہولتوں کے حصول کو مظاہرین کی شناخت کے طور پر استعمال کررہی ہیں اور وہ ان افراد کو گرفتار کرلیتی ہیں جو اسپتال سے مرہم پٹی کراتے ہیں۔

تنظیم کا کہناہے کہ ان افراد کو بالخصوص گرفتار کیا جاتا ہے جو پولیس یا فوج کی گولیوں سے زخمی ہونے کے بعد علاج معالجے کے لیے اسپتال جاتے ہیں۔

تاہم بحرین کے سرکاری خبررساں ادارے نے حکومت کے ترجمان کے حوالے سے کہا ہے کہ تنظیم کے پاس اپنے الزام کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے۔

بحرین کے عہدے داروں کا کہناہے کہ حکومت مخالف مظاہروں میں اب تک24 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG