رسائی کے لنکس

بھارت کی سپریم کورٹ نے ملک میں 20 سال سے قید پاکستانی شہری ڈاکٹر خلیل چشتی کی ضمانت کی درخواست منظور کر لی ہے۔

ڈاکٹر چشتی کی بیٹی سارقہ نے پاکستانی ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں کہا کہ وہ کئی برسوں سے اپنے والد کی آمد کی منتظر ہیں۔

’’ہم نے کمرے صاف کر لیے ہیں اور جو چیزیں انھیں چاہیئے ہوتی ہیں وہ سب ہم کئی سالوں سے رکھ کر بیٹھے ہوئے ہیں‘‘۔

معروف سماجی کارکن انصار برنی نے بھارت کی عدالت میں ڈاکٹر چشتی کے لیے رحم کی اپیل دائر کی تھی جس میں یہ استدعا کی گئی تھی کہ ضعیف العمر پاکستانی ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر خلیل چشتی کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہا کیا جائے۔

ڈاکٹر چشتی جامعہ کراچی کے شعبہ مائیکرو بیالوجی سے وابستہ تھے اور مارچ 1992ء میں اپنی علیل والدہ کی تیمار داری کے لیے بھارتی شہر اجمیر شریف گئے جہاں خاندانی جھگڑے میں ایک شخص کی ہلاکت کے بعد اُنھیں دیگر افراد سمیت قتل کے الزام میں حراست میں لے لیا گیا۔

بھارت کی ایک عدالت نے اُن کو قتل کا مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی تھی جس کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی لیکن اسے بھی خارج کر دیا گیا۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG