رسائی کے لنکس

ہلاک ہونے والوں میں باجوڑ لیویز کے کمانڈنٹ میجر محمد جاوید اقبال اور ڈپٹی کمانڈنٹ صوبیدار میجر فضل ربی بھی شامل ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے، باجوڑ ایجنسی، میں جمعہ کی صبح ایک طاقت ور خودکش بم دھماکے میں سات سکیورٹی اہلکاروں سمیت کم ازکم 24 افراد ہلاک اور 40 سے زائد زخمی ہو گئے۔

اس حملے کا ہدف نیم فوجی فورس، لیویز، کا ایک قافلہ تھا اور ہلاک ہونے والوں میں ادارے کے کمانڈنٹ میجر محمد جاوید اقبال اور ڈپٹی کمانڈنٹ صوبیدار میجر فضل ربی بھی شامل ہیں۔

مقامی انتظامیہ کےعہدے داروں نے بتایا ہے کہ لیویز کا قافلہ ایجنسی کے مرکزی شہر خار کے مصروف بازار سے گزر رہا تھا جب خود کش بمبار نے اس کے قریب جا کر جسم سے بندھے بارودی مواد میں دھماکا کر دیا۔

زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

دھماکے کے بعد علاقے میں تعینات سکیورٹی فورسز نے خار بازار کو چاروں اطراف سے سیل کر کے کرفیو نافذ کر دیا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جس مقام پر یہ دھماکا ہوا وہاں سے کافی دیر تک گولیاں چلنے کی آوازیں بھی آتی رہیں۔

مقامی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ڈپٹی کمانڈنٹ فضل ربی کو قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف کامیاب کارروائیوں پرحال ہی میں حکومت پاکستان نے تمغۂ شجاعت سے بھی نوازا تھا۔

باجوڑ میں ہونے والے حالیہ پرتشدد واقعات پر صوبائی وزیراطلاعات میاں افتخار حسین نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’’ہم نے پہلے بھی نہیں کہا کہ مکمل دہشت گرد ابھی ختم نہیں ہوئے ہیں اور نہ کبھی ہم نے دعویٰ کیا ہے، لازمی بات ہے جب دہشت گرد ہیں تو اس قسم کے واقعات بھی ہوں گے۔۔۔یہاں پر مقامی سطح پر ہمارے کچھ ایسے آپریشن کیے گئے ہیں کہ وہ ان لوگوں (دہشت گردوں) کو کافی نقصان بھی اٹھانا پڑا اور کچھ ان کی رسد کے راستے بھی بند ہیں تو وہ کسی نہ کسی طریقے سے پریشر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم اس کی شدید مذمت کرتے ہیں اور مکمل تحقیقات کے بعد پتا چلے گا کہ اصل صورتحال کیا ہے۔‘‘

باجوڑ ایجنسی کی تحصیل چمر کند میں جمعرات کو دو الگ الگ بم دھماکوں میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں سمیت پانچ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG