رسائی کے لنکس

باجوڑ میں تعلیمی ادارے کھل گئے

  • شمیم شاہد

فائل فوٹو

فائل فوٹو

افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں انتظامیہ نے پیر سے تمام تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان کیا ہے ۔ اس قبائلی علاقے میں شعبہ تعلیم کے ایک اعلیٰ عہدیدار گل رحمن نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ بیشترسکولوں میں درس وتدریس کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا ہے ۔ باجوڑ کے بیشتر تعلیمی اداروں میں گذشتہ دو سالوں سے تعلیم کا سلسلہ معطل تھا۔

اُنھوں نے بتایا کہ باجوڑ کی تین تحصیلوں نارنگ، سالارزئی اور اتمان خیل میں سکول پہلے ہی کھلے ہوئے تھے جب کہ اُن کے بقول باجوڑ کے انتظامی مرکز خار کے علاوہ ناواگئی میں امن وامان کی خراب صورت حال کے باعث کچھ سکول بند تھے جب کہ تحصیل ماموند میں تمام تعلیمی ادارے بند تھے۔

گل رحمن نے بتایا کہ پولیٹکل ایجنٹ اورعلاقے میں آپریشن کے فوجی سربراہ کی ہدایات پر اب تمام تعلیمی اداروں کو کھولنے کا اعلان کیا گیا ہے تاہم اُنھوں نے یہ نہیں بتایا کہ ان اداروں میں حاضری کی صورت حال کیا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ باجوڑ میں62 سکولوں کو شدت پسندوں نے تباہ کیا اور اب فوج اور پولیٹکل انتظامیہ سے ان علاقوں کے درس وتدریس جاری رکھنے کے لیے عارضی طور پرخیموں کی فراہمی کی سفارش کی جارہی ہے تاہم اُن کے بقول متاثرہ سکولوں میں تعلیمی سرگرمیاں شروع کر دی گئی ہیں۔

خیال رہے کہ حال ہی میں پاکستانی فوج نے باجوڑ میں سرکاری قبضہ بحال کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔

XS
SM
MD
LG