رسائی کے لنکس

ماموند قبیلے کے رہنما ملک محمد جان کی گاڑی کو سڑک میں پہلے سے نصب ریموٹ کنٹرول بم سے نشانہ بنایا گیا۔

پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں سڑک میں نصب بارودی مواد میں دھماکے سے ایک قبائلی رہنما سمیت پانچ افراد ہلاک ہو گئے۔

قبائلی انتظامیہ کے مطابق یہ بم دھماکا تحصیل ماموند میں ہوا۔

اطلاعات کے مطابق ماموند قبیلے کے ایک سرکردہ قبائلی رہنماء ملک محمد جان کی گاڑی کو سڑک میں پہلے سے نصب ریموٹ کنٹرول بم سے نشانہ بنایا گیا۔

جس سے ملک محمد جان سمیت پانچ افراد ہلاک ہو گئے۔

ملک محمد جان کا شمار حکومت کے حامی اور طالبان مخالف قبائلی رہنماؤں میں ہوتا تھا۔

وزیراعظم نواز شریف نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے تمام اقدامات کیے جائیں گے۔

بم دھماکے کے بعد علاقے میں مشتبہ افراد کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے ہی باجوڑ ایجنسی میں سابق رکن قومی اسمبلی اخونزادہ چٹان کے قافلے میں شامل گاڑیوں کے قریب بم دھماکا ہوا تھا۔

تاہم پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے اخونزادہ چٹان اور اُن کے ساتھی اس میں محفوظ رہے لیکن قافلے میں شامل بعض گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔

اخونزادہ چٹان باجوڑ میں ایک جلسے میں شرکت کے لیے جا رہے تھے کہ سڑک میں نصب دیسی ساخت کے بم سے اُنھیں نشانہ بنایا گیا۔

باجوڑ ایجنسی میں اس سے قبل بھی قبائلی عمائدین، سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں اور انسداد پولیو کی ٹیموں پر حملے کیے جاتے رہے ہیں۔

باجوڑ پاکستان کے سات قبائلی علاقوں میں سے ایک ہے، ملک کی مسلح افواج ان قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں مصروف ہیں۔

خاص طور پر شمالی وزیرستان اور خیبر ایجنسی میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری ہیں۔

XS
SM
MD
LG