رسائی کے لنکس

گاڑی میں سوار تمام بچوں کا تعلق حکومت کے حامی ایک قبائلی رہنما ملک ناصر خان کے خاندان سے ہے۔

پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں بچوں کو اسکول لے جانے والی ایک گاڑی کو پہلے سے نصب بم سے نشانہ بنایا گیا، جس سے ایک بچہ ہلاک جب کہ تین بچے اور گاڑی کا ڈرائیور زخمی ہو گیا۔

یہ واقع جمعہ کو افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی کے گاؤں توحید آباد میں پیش آیا، جہاں دیسی ساخت کا ایک بم سڑک میں نصب کیا گیا تھا۔

گاڑی میں سوار تمام بچوں کا تعلق حکومت کے حامی ایک قبائلی رہنما ملک ناصر خان کے خاندان سے ہے۔ زخمی بچوں اور گاڑی کے ڈرائیور کو فوری طور پر تیمرگرہ کے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

بتایا جاتا ہے کہ ملک ناصر پر پہلے بھی عسکریت پسند حملے کر چکے ہیں۔

باجوڑ ایجنسی سے رکن قومی اسمبلی شہاب الدین نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ قبائلی علاقوں میں دیرپا امن کے لیے ضروری ہے کہ ان علاقوں کی انتظامی حیثیت کو تبدیل کیا جائے تاکہ مقامی قبائلی با اختیار ہو سکیں۔

باجوڑ ایجنسی میں دہشت گرد کافی عرصے تک سرگرم رہے تاہم یہاں فوجی آپریشن کے بعد عسکریت پسند مبینہ طور پر سرحد پار افغانستان فرار ہو گئے ہیں۔

باجوڑ ایجنسی وفاق کے زیرانتظام سات قبائلی ایجنسیوں میں سے ایک ہے اور اگرچہ یہ علاقہ ماضی کے مقابلے میں خاصہ پرامن ہے لیکن اب بھی عسکریت پسند سکیورٹی فورسز اور حکومت کے حامی قبائلیوں پر اکا دکا حملے کرتے رہتے ہیں۔

پاکستان فوج کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقوں خصوصاً شمالی وزیرستان میں ملکی و غیر ملکی عسکریت پسندوں کے خلاف بھرپور کارروائی کر کے ہزاروں دہشت گردوں کو ہلاک اور ان کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کیا جا چکا ہے۔

XS
SM
MD
LG