رسائی کے لنکس

سینکڑوں عسکریت پسندوں کا ریاستی عملداری قبول کرنے کا عزم

  • ستار کاکڑ

جمعہ کو پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر ساڑھے چار سو سے زائد نوجوانوں نے مزاحمت کی راہ ترک کر کے ریاستی عملداری کو تسلیم کرنے اور آئندہ پرامن رہنے کا عزم کیا۔

پاکستان کا صوبہ بلوچستان ایک عرصے سے شورش پسندی اور بدامنی کا شکار چلا آ رہا ہے لیکن حالیہ مہینوں میں حکومت اور فوج کی جانب سے عسکریت پسندوں کو تشدد کا راستہ ترک کر کے قومی دھارے میں شامل ہونے پر عام معافی کے اعلان کے بعد ریاست کے خلاف برسرپیکار بلوچ نوجوانوں کی طرف سے ہتھیار ڈالنے کا سلسلہ جاری ہے۔

جمعہ کو پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر ساڑھے چار سو سے زائد نوجوانوں نے مزاحمت کی راہ ترک کر کے ریاستی عملداری کو تسلیم کرنے اور آئندہ پرامن رہنے کا عزم کیا۔

اس سلسلے میں کوئٹہ میں ایک بڑی تقریب کا اہتمام کیا گیا جہاں چار سو سے زائد سابق عسکریت پسندوں نے اپنے ہتھیار حکام کے حوالے کیے۔

تقریب میں کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل ناصر خان جنجوعہ، صوبائی وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی، پولیس کے انسپکٹر جنرل سمیت دیگر اعلیٰ حکام اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد شریک ہوئی۔

تقریب سے خطاب کر تے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل ناصر خان جنجوعہ نے بلوچ نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنے سابقہ ساتھیوں کو بھی تشدد کی راہ ترک کرنے پر مائل کریں۔

"آپ سب پاکستانی ہیں، آج سے دشمنی ختم اور بھائی بندی شروع، بندوں کے پیچھے لگ کر لڑنا، وہ بندے جو ناراض ہیں جن کی انا پر ستی اور ضد ہی ختم نہیں ہو رہی، ایسے لوگوں کے لیے لڑنا شرک ہے۔"

قدرتی وسائل سے مالا مال اس صوبے میں 2000ء سے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں بلوچ عسکریت پسندوں نے صوبے کے ساحل اور وسائل پر اختیار کے لیے مسلح جدوجہد شروع کی تھی جس میں اس وقت مزید تیزی آئی جب 2006ء میں بلوچستان کے سابق گورنر اور وزیراعلیٰ نواب اکبر بگٹی کو سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں ہلاک کر دیا گیا۔

ادھر بلوچستان کے ضلع گوادر میں بھی ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں 46 فراری کمانڈروں نے اپنے ہتھیار رکھ کر ریاست کی عملداری تسلیم کرنے کا عز م کیا۔

صوبائی حکومت نے ہتھیار ڈالنے والوں کی حوصلہ افزائی کے لیے پانچ سے پندرہ لاکھ روپے اور دیگر مراعات دینے کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔

XS
SM
MD
LG