رسائی کے لنکس

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے چیئرمین زاہد بلوچ کی مبینہ جبری گمشدگی کے خلاف کراچی پریس کلب کے باہر لطیف جوہر نے 22 اپریل کو بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔

پاکستان کے اقتصادی مرکز کراچی میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (آزاد) کے ایک نوجوان طالب علم لطیف جوہر نے 46 روز سے جاری اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے۔

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے چیئرمین زاہد بلوچ کی مبینہ جبری گمشدگی کے خلاف کراچی پریس کلب کے باہر لطیف جوہر نے 22 اپریل کو بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔

کئی بلوچ رہنماؤں بشمول بلوچستان کے وزیر اعلیٰ عبد المالک بلوچ نے بھی لطیف جوہر سے ملاقات کر کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی تھی۔

جمعہ کو بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (آزاد) کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے اس یقین دہانی کے بعد کہ بلوچستان کے لاپتہ افراد کے معاملے کو بین الاقوامی سطح پر اٹھایا جائے گا، لطیف جوہر نے بھوک ہڑتال ختم کی۔

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (آزاد) کی وائس چیئرمین کریمہ بلوچ کے مطابق ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (یو این ایچ سی آر) اور ایشین ہیومن رائٹس کمیشن نے اُنھیں یقین دلایا کہ دوران علاج لطیف جوہر کی حفاظت کی جائے گی۔

46 روزہ بھوک ہڑتال کے دوران لطیف جوہر خاصے کمزور ہو گئے ہیں۔

لاپتا افراد کے بارے میں حقائق جاننے کے لیے حکومت نے عدالتی کمیشن بھی تشکیل دے رکھا ہے جب کہ سپریم کورٹ بھی اس معاملے کا نوٹس لے چکی ہے۔

رواں سال مارچ میں جنوب مغربی صوبہ بلوچستان سے ’وائس آف بلوچ مسنگ پرسنز‘ نامی تنظیم کے رہنما قدیر بلوچ کی مرد و خواتین اور بچوں پر مشتمل ایک قافلہ تقریباً 2500 کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کرتے ہوئے اسلام آباد پہنچا تھا۔

قدیر بلوچ کے مطابق اس پیدل مارچ کا مقصد لاپتہ افراد کے معاملے کو اجاگر کرنا تھا تاکہ اُنھیں منظر عام پر لایا جائے اور اگر انھوں نے کوئی جرم کیا ہے تو قانون کے مطابق ان سے سلوک کیا جائے۔

پاکستان کے صوبہ بلو چستان سے لاپتہ افراد کا معاملہ گزشتہ کئی سالوں چلا آ رہا ہے اور بلوچ قوم پرست جماعتوں کے اعدادو شمار میں یہ دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ یہاں سے ہزاروں افراد جبری طور پر گمشدہ ہیں۔

لیکن وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے علاوہ انسانی حقوق کی غیر جانبدار تنظیمیں ان اعداد و شمار کو حقیقت سے برعکس قرار دیتے ہوئے کہہ چکی ہیں کہ اصل تعداد اس سے کہیں کم ہے۔
XS
SM
MD
LG