رسائی کے لنکس

تربت: چار مغوی مزدوروں کی لاشیں برآمد

  • ستار کاکڑ

فائل فوٹو

فائل فوٹو

حکام کا کہنا تھا کہ مرنے والوں میں سے دو کا تعلق کوئٹہ اور ایک کا وزیرستان سے تھا جب کہ ایک کے بارے میں تاحال معلوم نہیں ہو سکا ہے۔

بلوچستان کے ضلع تربت میں نا معلوم مسلح افراد نے چند روز قبل اغوا کیے گئے فرنٹیر ورکس آرگنائزیشن کے چار اہلکاروں کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا جن کی لاشیں اتوار کو دشت کے علاقے سے برآمد ہوئی ہیں۔

ضلع تربت میں لیویز کے اہلکار نور محمد نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ گزشتہ جمعرات کو مسلح افراد نے گوادر کاشغر شاہرہ کی تعمیر کرنے والی کمپنی کے چار لوگوں کو اغوا کیا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ لیویز اہلکار مغویوں کی تلاش میں مصروف تھے کہ انھیں دشت کے علاقے مں ایک ندی سے ان چاروں کی لاشیں ملی۔

نور محمد کا کہنا تھا کہ مرنے والوں میں سے دو کا تعلق کوئٹہ اور ایک کا وزیرستان سے تھا جب کہ ایک کے بارے میں تاحال معلوم نہیں ہو سکا ہے۔

ایف سی حکام کے مطابق اس واقعہ کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کیا گیا اور مذکورہ علاقے سے 9 مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے جن سے تفتیش کی جائے گی۔

بلوچستان کے دو اضلاع تر بت اور آواران میں گوادر کاشعر شاہراہ کی تعمیر کا کام تیز ی سے جاری ہے اور وفاقی حکومت کے مطابق اس وقت 460 کلو میٹر سڑک کا بیشتر حصہ مکمل ہو چکاہے۔ ان اضلاع میں بلوچ عسکری تنظیمیں کافی سر گرم عمل ہیں۔

رواں ماہ کے دوران تر بت کے علاقے میں ہی ایف سی کی ایک گاڑی پر ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک اور پانچ دوسرے زخمی ہوگئے تھے جبکہ اس سے پہلے بھی ایف سی اور دوسروں صوبوں سے محنت مزدور ی کے لئے آنے والے مزدوروں پر جان لیوا حملے ہوتے رہے ہیں جن میں اب تک درجنوں مزدور اور سیکورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔

حکام بیشتر حملوں کی ذمہ داری بلوچ عسکریت پسندوں پر عائد کرتے آئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG