رسائی کے لنکس

بلوچستان میں صورت حال ’مکمل طور پر قابو میں نہیں آ ئی‘


رضا ربانی (فائل فوٹو)

رضا ربانی (فائل فوٹو)

حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے ایک وفاقی وزیر رضا ربانی نے جمعرات کو قومی اسمبلی میں بلوچستان کی صورت حال پر اُٹھائے گئے سوالات کے جواب میں اعتراف کیا کہ ملک کے اس صوبے میں”بدقسمتی سے ابھی تک جو صورت حال ہے وہ مکمل طور پہ قابو میں نہیں آئی ہے“۔

اُنھوں نے صوبے میں ماورائے عدالت قتل کے واقعات میں سکیورٹی فورسز کے ملوث ہونے کے الزامات کو کر رد کیا۔ ” بلوچستان کی اس وقت جو صورت حال ہے وہ ملٹی ڈائمنشنل (کثیرالجہتی) صور ت حال ہے اُس میں بہت سی قوتیں اورعناصر کام کر رہے ہیں“۔

بلوچستان کے سابق گورنر عبدالقادر بلوچ صوبے میں ماورائے عدالت قتل کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کے اس بیان پر مطمئن دیکھائی نہیں دیے کہ ان کارروائیوں میں کوئی سرکاری ایجنسی ملوث نہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ ایسی تردیدیں متواتر آتی رہی ہیں لیکن یہ واقعات دن دھاڑے ہو رہے ہیں۔ ”ہر دوسر ے دن لوگ اٹھائے جاتے ہیں اور دو تین دن کے بعد اُن کی مسخ شدہ لاشیں مل جاتی ہیں۔“

بلوچ رکن پارلیمنٹ کا کہنا تھا کہ دن دھاڑے سول کپڑوں میں ملبوس اور سول گاڑیوں میں سوار افراد لوگوں کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔ ”کیا یہ حکومت کی ذمہ داری نہیں بنتی کہ وہ معلوم کرے کہ یہ لوگ کون ہیں جو سیاسی کارکنوں کو اٹھاتے ہیں اور اُس کے بعد پھر اُن کی لاشیں پھینک دی جاتی ہیں۔ “ انھوں نے کہا کہ ان واقعات میں ملوث افراد کو گرفتار کر کے انھیں سزا دیناحکومت کی ذمہ داری ہے۔

رضا ربانی نے کہا کہ حکومت بلوچستان میں برسر پیکار عناصر کو بے نقاب کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے تاکہ شناخت کے بعد اُن کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔ وفاقی وزیر کا اشارہ بظاہر اُن قوتوں کی طرف تھا جو بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کی تحریک کو ہوا دے رہی ہیں۔ ماضی میں بھی پاکستانی حکام بھارت پر یہ الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ بلوچستان میں بدامنی کی صورت میں اُس کا ہاتھ ہے لیکن بھارت ان الزامات کی تردید کرتا آیا ہے۔

لاپتہ افراد کے بارے میں وفاقی وزیر نے بتایا کہ اُن کی بازیابی اور تلاش کے لیے ایک خصوصی کمیشن بھی بنایا گیا ہے اور کچھ لوگوں کو برآمد بھی کروایا گیا ہے تاہم اُنھوں نے تسلیم کیا کہ اس معاملے میں تیزی سے پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔

بلوچستان کے مسئلے پر قومی اسمبلی میں بحث سے ایک روز قبل انسانی حقوق کی تنظیم 'ایمنسٹی انٹرنیشنل' نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں الزام لگایا ہے کہ گذشتہ چار ماہ کے دوران 90 بلوچ کارکن، اساتذہ ، صحافی اور وکلاء یا تو لاپتہ ہو گئے یا پھر اُنھیں قتل کر دیا گیا۔ تنظیم کے مطابق مارے جانے والے افراد کی گولیوں سے چھلنی لاشیں صوبے کے مختلف علاقوں سے ملی ہیں اور اُن میں سے اکثریت کے جسموں پر تشدد کے نشانات تھے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ایشیا پیسیفک کے ڈائریکٹرسیم ظریفی نے کہا ہے کہ اکتوبر کے بعد سے ہر مہینے مبینہ طور پر لاپتہ ہونے والے افراد اور غیر قانونی ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

تنظیم کے مطابق متاثرین کے لواحقین اور بلوچ تنظیموں کا الزام ہے کہ ’کِل اینڈ ڈمپ ‘ یا (مارو اور پھینک دو) کے ان واقعات میں پاکستان کی سکیورٹی فورسز خاص طور پر فرنٹیئر کور اور انٹیلی جنس ایجنسوں کا ہاتھ ہے۔

XS
SM
MD
LG