رسائی کے لنکس

بلوچستان میں انسداد پولیو مہم کے قابل ذکر نتائج برآمد ہوئے: حکام

  • ستارکاکڑ

فائل فوٹو

فائل فوٹو

اس مہم کے دوران پانچ سال تک کی عمر کے 24 لاکھ بچوں میں سے 21 لاکھ کو انسداد پولیو کی ویکسین پلائی گئی جب کہ باقی ماندہ کے لیے یہ مہم آئندہ دو روز تک جاری رہے گی۔

پاکستان کے جنوب مغربی صوبے بلوچستان میں انسداد پولیو کی ایک ہفتے تک جاری رہنے والی مہم کو حکام نے کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ برس کی نسبت اس مہم میں قابل ذکر حد تک اہداف حاصل کیے گئے۔

اس مہم کے دوران پانچ سال تک کی عمر کے 24 لاکھ بچوں میں سے 21 لاکھ کو انسداد پولیو کی ویکسین پلائی گئی جب کہ باقی ماندہ کے لیے یہ مہم آئندہ دو روز تک جاری رہے گی۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے پولیو ایمرجنسی آپریشن سیل کے سربراہ ڈاکٹر سیف الرحمن نے بتایا کہ اس مرتبہ نوے فیصد بچوں کو قطرے پلائے گئے لیکن ان کے بقول جب تک تمام بچوں کو یہ ویکسین نہیں پلا دی جاتی اس وقت تک مہم چلائی جاتی رہے گی۔

مہم کی کامیابی کی تفصیلات بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے 30 اضلاع کے لیے اس مہم کی بہتر منصوبہ بندی کی گئی اور رضاکاروں کو موثر تربیت فراہم کر کے سائنسی بنیادوں پر مہم چلائی گئی۔

"پانچ سال سے کم عمر بچوں کی مردم شماری، گھروں میں جانے والی ٹیموں کو علاقے کی آبادی کے باروں میں نقشے فراہم کیے گئے ٹیموں کو گھروں کے اندر بھجوانے کے لیے مقامی خواتین کو اس میں شامل کیا گیا۔۔۔ پچھلی مرتبہ 25 میں سے 18 کے قریب ایسے بچے تھے جن کی عمر دو سال سے کم تھی اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ بچے باہر نہیں آسکے تھے اس لیے ہم نے اس قسم کی ٹیمیں ترتیب دیں جو گھر کے اندر جائیں اور بچوں کو نہ صرف پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائیں بلکہ دوسرے حفاظتی ٹیکہ جات کے بارے میں بھی بتائیں۔"

گزشتہ سال بلوچستان میں پولیو سے متاثرہ 25 کیسز رپورٹ ہوئے جب کہ رواں برس اب تک صرف سات کیسز سامنے آئے ہیں۔

ڈاکٹر سیف الرحمن کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے دو اضلاع کوئٹہ اور قلعہ عبداللہ سے حاصل کیے گئے نمونے سے پتا چلا تھا کہ قلعہ عبداللہ کو پولیو وائرس کا گڑھ ہے۔ لیکن ان کے بقول اس سال کی گئی کوششوں کے بعد تازہ تجزیے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ قلعہ عبداللہ میں پولیو کیسز میں اسی فیصد کمی آئی ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ کوئٹہ بھی صورتحال اب بھی تسلی بخش نہیں ہے۔

"گزشتہ سال کوئٹہ (میں نکاسی آب) کا ٹیسٹ 43 فیصد تھا اور رواں سال بھی یہی نتیجہ آیا ہے اور اس پر قابو بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے سے ہی پایا جا سکتا ہے۔۔۔جن لوگوں نے (بچوں کو قطرے پلوانے سے) انکار کیا تھا ان میں سے نوے فیصد کو مقامی انتظامیہ کی مدد سے ویکسین پلانے کے لیے راضی کیا ہے جو کہ ہماری ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔"

پاکستان اور افغانستان دنیا کے وہ دو ملک ہیں جہاں انسانی جسم کو مفلوج کر دینے والی بیماری پولیو کے وائرس پر تاحال پوری طرح سے قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔ لیکن پاکستانی عہدیداروں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ موثر منصوبہ بندی اور کوششوں سے اس وائرس پر آئندہ سال کے اواخر تک قابو پا لیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG