رسائی کے لنکس

کوئٹہ: دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 80 سے تجاوز کرگئی

  • ستار کاکڑ

ہلاک ہونے والوں میں سے تقریباً پچاس کی لاشیں شہر کی مختلف امام بارگاہوں میں رکھی ہوئی ہیں جب کہ ان کے لواحقین اور شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے دیگر افراد سراپا احتجاج ہیں۔

پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ہفتہ کی شام ہونے والے بم دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 80 سے تجاوز کرگئی ہے جب کہ 180 زخمیوں میں سے اکثریت مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہے۔

شدید زخمیوں کو خصوصی سی ون تھرٹی طیارے کے ذریعے اتوار کو کوئٹہ سے کراچی منتقل کیا جارہاہے۔

کوئٹہ میں پولیس حکام نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے 81 ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

پولیس کے مطابق کیرانی روڈ پر جب یہ دھماکا ہوا تو اس وقت وہاں کی ایک سبزی اور فروٹ مارکیٹ میں بڑی تعداد میں مرد و خواتین خریداری میں مصروف تھے۔ یہ علاقہ ہزارہ ٹاؤن سے متصل ہے جہاں شعیہ ہزارہ آبادی مقیم ہے جو اس بم حملے کا نشانہ بنی۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق اس حملے میں آٹھ سو سے زائد دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا۔

ہلاک ہونے والوں میں سے تقریباً پچاس کی لاشیں شہر کی مختلف امام بارگاہوں میں رکھی ہوئی ہیں جب کہ ان کے لواحقین اور شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے دیگر افراد سراپا احتجاج ہیں۔

مجلس وحدت المسلمین اور اعزاداری کونسل کے اعلان پر کوئٹہ میں مکمل ہڑتال ہے اور جب کہ علمدار روڈ اور بروری روڈ کے علاوہ بولان میڈیکل کالج کے سامنے بھی احتجاجی دھرنا دیا گیا ہے۔ مظاہرین نے بروری روڈ پر ٹائر جلائے جب کہ کراچی کو چمن سے ملانے والی مرکزی شاہراہ کے لیے مغربی بائی پاس کو بھی رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کردیا ہے۔

مقامی لوگ دھماکے کی جگہ کا جائزہ لے رہے ہیں

مقامی لوگ دھماکے کی جگہ کا جائزہ لے رہے ہیں

صوبے میں گورنر ذوالفقار مگسی نے ایک روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے جب کہ قومی پرچم بھی سرنگوں ہے۔

گزشتہ ماہ بھی کوئٹہ کے علمدار روڈ پر ہونے والے بم دھماکوں میں 90 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں اکثریت شیعہ ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والوں کی تھی۔ ان کے لواحقین نے لاشوں کو علمدار روڈ پر رکھ کر چار روز تک دھرنا دیا اور بعد ازاں صوبائی حکومت کی برطرفی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد انھوں نے دھرنا ختم کرتے ہوئے میتوں کو دفن کیا۔

تحفظ اعزاداری کونسل کے ایک رہنما رحیم جعفری نے اس تازہ واقعہ کے بعد ایک بار پھر کوئٹہ شہر کو فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک چیف سیکرٹری اور صوبے کے پولیس سربراہ کو تبدیل نہیں کیا جاتا ان کا احتجاج جاری رہے ۔

دریں اثناء ملک کے مختلف شہروں بالخصوص کراچی، لاہور اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی کوئٹہ میں ہونے والے بم دھماکے اور اس کے نتیجے میں شیعہ ہزارہ برادری کے بڑی تعداد میں جانی نقصان کے خلاف احتجاج کیا جارہا ہے۔
XS
SM
MD
LG