رسائی کے لنکس

بلوچستان میں بدامنی سے ادیبوں کی مشکلات میں اضافہ

  • ستارکاکڑ

ادیبوں کا کہنا ہے کہ سن 2000 کے بعد ادبی تقریبات میں اضافہ ہوا تھا لیکن اس کے بعد صوبے کے خراب حالات نے اس عمل کو کافی متاثر کیا۔

بلوچستان میں گزشتہ لگ بھگ 15 سال سے جاری بدامنی کی صورتحال نے اُردو ادب کو اگرچہ کسی حد تک متاثر کیا ہے لیکن ادیبوں اور دانشوروں کا کہنا ہے کہ بدامنی اور خوف کی فضا کے باوجود اُردو ادب میں نئی جہتیں متعارف کرائی جا رہی ہیں۔

جب کہ نوجوان شعراء کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور ادیبوں کے بقول بیشتر نئی تخلیقات میں حالیہ حالات کی عکاسی بھی جاتی ہے۔

اکیڈیمی ادبیات کے صوبائی جنرل سیکرٹری سرور جاوید کا کہنا ہے کہ ادب ہمیشہ ابتری کے دور میں فر وغ پاتا رہا ہے تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ حالیہ خودکش حملوں کے معاشرے پر منفی اثرات مرتب ہو ئے ہیں، لیکن ادب کی قوت میں کمی نہیں آئی۔

اُن کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات پر تمام ادیب، افسانہ و ناﺅل نگار اس پر لکھ چکے ہیں اور شعراء نے اپنے اشعار میں دُکھ کو کسی نہ کسی انداز میں بیان کیا ہے ۔

اُن کا کہنا ہے کہ سن 2000 کے بعد ادبی تقر یبا ت میں اضافہ ہوا تھا لیکن اس کے بعد صوبے کے خراب حالات نے اس عمل کو متاثر کیا۔

’’بڑی ادبی تقریبات میں تھوڑا سا اضافہ ہوا تھا، لیکن بعد میں آنے والے حالات سے کمی ہونی شروع ہوئی، اس کی وجوہات یہ ہیں کہ بسا اوقات سکیورٹی کے خدشات جو ہیں وہ سرکار کا مسئلہ ہوتے ہیں اور لوگ بھی اُن سے تعاون کرتے ہیں وہ اتنا بڑا مجمع اکٹھا نہیں کر نا چاہیں گے جو کسی بھی طرح سے سکیورٹی رسک بن جائے۔‘‘

ادیبوں اور دانشوروں کا کہنا ہے کہ موضوعی مشکلات کے باوجود اُردو ادب بلوچستان میں تیز ی سے فر وغ پا رہا ہے یہاں بلوچی، پشتو، براہوی، ہزارگی، سرائیکی اور دیگر زبانوں کے شعراء اور ادیب بھی اب اُردو میں لکھ رہے ہیں، اکیڈمی ادبیات بلوچستان کے ڈائر یکٹر افضل مُراد کا کہنا ہے کہ اُن کا ادارہ مقامی زبانوں میں شائع ہونے والی کتابوں اور مضامین کا اُردو میں ترجمہ کرکے رسائل میں شائع کراتی ہے۔

’’کتاب چھپانے کے لیے کو ئی مالی مدد نہیں کی جاتی ، لیکن کتابوں کے سلسلے میں اُن کو (ادیبوں کو) مشاورت دیتے ہیں کمپوزنگ میں تعاون کرتے ہیں، جو کتابیں بلوچستان کے علم و ادب سے ہیں وہ ہمارے تعاون سے اکثر چھپتی ہیں ہمار ادارہ مختلف اداروں سے مالی تعاون اس بنیاد پر کرتا ہے۔‘‘

بلوچستان میں بدامنی کے واقعات میں اضافے کے بعد بعض ذو لسان ادیبوں اور شعراء کو نشانہ بنا کر قتل بھی کیا گیا جس کے باعث اس حلقے کے لوگوں میں خوف بھی پایا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود قومی زبان کے فروغ کے لیے بلوچستان کی سطح پر تقریباً ایک درجن کے قریب ادبی تنظیمیں کام کر رہی ہیں، اور مقامی سطح پر مارکیٹ نہ ہونے کے باوجود صوبے میں ہر سال درجنوں کتابیں چھپتی ہیں جن میں بعض کے ادیبوں کو قومی ایوارڈ بھی دیا گیا ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG