رسائی کے لنکس

بلوچستان: زلزلے کے نئے جھٹکے، 15 افراد ہلاک

  • ستار کاکڑ

7.2 شدت کے زلزلے کے جھٹکے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ، پنگجور، دالبندین، آواران سمیت متعدد علاقوں اور کراچی سمیت صوبہ سندھ کے بعض اضلاع میں بھی محسوس کیے گئے۔

پاکستان کے جنوب اور جنوب مغربی علاقوں میں ہفتہ کو ایک بار پھر زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔

حکام کے مطابق، اِس زلزلے میں کم از کم 15افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں اضافہ کا امکان بتایا جاتا ہے۔

محکمہ موسمیات کے زلزلہ پیما مرکز کے مطابق اس زلزلے کی شدت 7.2 ریکارڈ کی گئی اور اس کا مرکز بلوچستان میں خضدار کے قریب بتایا جاتا ہے۔

زلزلے کے جھٹکے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ، پنگجور، دالبندین، آواران سمیت متعدد علاقوں اور کراچی سمیت صوبہ سندھ کے بعض اضلاع میں بھی محسوس کیے گئے۔

آواران نے ضلعی رابطہ افسر نے وائس اف امر یکہ کو بتایا کہ زلزلے سے ضلع کے علاقے مشکے میں چار روز پہلے آنے والے 7.7 شدت کے زلزلے میں بچ جانے والے کچھ کچے مکانات گر گئے تاہم انہوں نے کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں کی۔

گزشتہ منگل کے زلزلے سے متاثرہ اضلاع آواران اور تربت میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں جس میں فوج اور فرنٹیئر کور کے اہلکار بھی حصہ لے رہے ہیں۔ لیکن مختلف علاقوں میں ان پر مشتبہ عسکریت پسندوں نے حملے کیے جس سے امدادی سرگرمیاں تعلطل کا شکار ہوئیں۔


مکران ڈویژن میں فوج کے کمانڈنگ افسر میجر جنرل ثمریز صادق ملک نے آواران میں وائس اف امر یکہ سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ گزشتہ مئی میں ہونے والے انتخابات کے مو قع پر بھی بدامنی کے ایسے واقعات پیش آتے رہے لیکن ان کے بقول یہ واقعات اتنی شدت کے نہیں ہیں کہ جو اہلکاروں کے فرائض کی ادائیگی میں روکاوٹ بن سکیں۔

تاہم جنر ل ثمریز نے علاقے میں ریاست کے خلاف کارروائیاں کرنے والے لوگوں سے کہا کہ زلزلہ متاثرین کی امدادی کارروائیوں میں مصروف اہلکاروں کے کام میں رکاوٹ نہ ڈالیں تاکہ وہ بہتر طریقے سے لوگوں کی مدد کر سکیں۔

ریاستوں اور سرحدی امور کے وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ نے وائس اف امر یکہ سے گفتگو میں ضلع آواران میں عسکر ی کارروائیاں کرنے والے گروپ کے سربراہ ڈاکٹر اللہ نذر سے درخواست کی کہ وہ یہاں مصروف سکیورٹی اہلکاروں کی امدادی کارروائیوں میں خلل نہ ڈالیں۔

’’میں ان (اللہ نذر) سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ بھی آگے آئیں لوگوں کی مدد کریں، یہاں ان کے رشتے داروں کو ان کے بھائی بہنوں کو ضرورت ہے، فوج اگر یہاں آئی ہے تو اس لیے کہ سول اداروں کی مدد کے لیے۔‘‘

اس سے قبل قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی اداے این ڈی ایم اے کے چیئیر مین علیم سعید جب زلزلہ زدہ علاقوں کا فضائی جائزہ لے رہے تھے تو ان کے ہیلی کاپٹر پر بھی فائرنگ کی گئی جب بعض علاقوں میں امدادی سامان لے جانے والے ٹرکوں کو نامعلوم افراد کی طرف سے لوٹے جانے کی اطلاعات ہیں۔

منگل کو آنے والے زلزلے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد چار سو سے تجاوز کر گئی ہے۔
XS
SM
MD
LG