رسائی کے لنکس

اساتذہ کے قتل کا سلسلہ بند کرنے کا مطالبہ


کوئٹہ میں مظاہرہ (فائل فوٹو)

کوئٹہ میں مظاہرہ (فائل فوٹو)

بم دھماکوں اور دیگر حملوں کے خوف کے باعث 2009ء میں بلوچستان میں سرکاری تعلیمی ادارے صرف 120 دن کھولے گئے اور یہ دورانیہ ملک کے دوسرے صوبوں کے مقابلے میں سو دن کم تھا۔

نیویارک میں قائم انسانی حقوق کی علمبردار تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے بلوچستان پر اپنی تحقیقی رپورٹ میں کہا کہ تشدد کے واقعات میں اضافے سے بلوچستان میں شیعہ تعلیم کے مستقبل کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔

پیر کو اسلام آباد میں جاری کی گئی اس رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں مشتبہ مسلح جنگجو گذشتہ تقریباَ تین سالوں کے دوران کم ازکم بائیس اساتذہ کو قتل کرچکے ہیں اور مارے جانے والے افراد میں صوبائی وزیر تعلیم شفیق احمد بھی شامل ہیں جنھیں اکتوبر 2009ء میں ان کے گھر کے قریب فائرنگ کر کے ہلاک کردیا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق عسکریت پسندوں نے اساتذہ اور تعلیمی اداروں کے عملے کو دھمکی دے رکھی ہے کہ وہ اسکولوں میں نہ تو پاکستان کی تاریخ پڑھائیں اور نہ ہی پاکستان کا جھنڈا اسکول کی عمارت پر لہرائیں جب کہ ان عناصر نے تعلیمی اداروں سے یہ بھی کہہ رکھا ہے کہ قومی ترانہ بھی نہ پڑھا جائے۔ بم دھماکوں اور دیگر حملوں کے خوف کے باعث 2009ء میں بلوچستان میں سرکار ی تعلیمی ادارے صرف 120 دن کھولے گئے اور یہ دورانیہ ملک کے دوسرے صوبوں کے مقابلے میں سو دن کم تھا۔

بلوچستان میں تشدد کے واقعات میں اضافہ خاص طور پر اساتذہ، پروفیسروں اورشیعہ تعلیم سے وابستہ عملے کے ارکان پر مہلک حملے پاکستان کے اس نسبتاَ پسماندہ صوبے میں طالب علموں کے لیے بہت زیادہ نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں اس لیے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عسکریت پسند تشدد کی یہ کارروائیاں فوری طور پر بند کریں۔

جنوبی ایشیا کے لیے ہیومن رائٹس واچ کے نمائندے علی دایان حسن

جنوبی ایشیا کے لیے ہیومن رائٹس واچ کے نمائندے علی دایان حسن

جنوبی ایشیا کے لیے ہیومن رائٹس واچ کے نمائندے علی دایان حسن نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں تعلیم دینا یا حاصل کرنااپنی زندگی کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ ان کے بقول مسلح گروہوں کی پاکستانی ریاست کے خلاف شکایات اس بات کا جواز نہیں کہ وہ اساتذہ ، طالب علموں اور درس وتدریس کے شعبے سے وابستہ افراد کو قتل کرتے پھریں کیونکہ ایسا کرکے وہ صرف بلوچستان کے مسائل میں اضافہ کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق صوبے کے دوسرے شہروں کے سرکاری سکولوں میں تعینات دو سو سے زائد اساتذہ نے ڈر اور خوف کے مارے کوئٹہ میں اپنا تبادلہ کرا لیا ہے جب کہ ایک بڑی تعداد پاکستان کے دوسرے حصوں کی طرف ہجرت کر کے چلی گئی ہے۔ اس کے علاوہ دوسو دیگر اساتذہ اپنی ٹرانسفر کروانے کے لیے بھر پور کوششیں کر رہے ہیں۔

تشدد کی ان کارروائیوں کا ہدف بننے والے زیادہ تر افراد کا تعلق صوبہ پنجاب سے ہے جب کہ حالیہ دونوں میں بلوچستان میں سنی انتہا پسندوں نے اقلیتی شیعہ برادری پر بھی جان لیوا حملوں میں اضافہ کردیا ہے۔

بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے جس کی سرحدیں ایران اور افغانستان سے ملی ہوئی ہیں۔ یہ ملک کے چاروں صوبوں میں پسماندہ ترین صوبہ ہے جس کی آبادی تقریباََ اسی لاکھ ہے۔ ہومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ اس نے بلوچستان پر اپنی تحقیقی رپورٹ شیعہ تعلیم سے وابستہ افراد ، متاثرہ خاندانوں اور طالب علموں سے انٹرویو کی بنیاد پر مرتب کی ہے۔

XS
SM
MD
LG