رسائی کے لنکس

بلوچستان کے مسئلے کا حل بندوق نہیں ووٹ کے ذریعے ممکن

  • ستار کاکڑ

چیف الیکشن کمشنر فخر الدین جی ابراہیم

چیف الیکشن کمشنر فخر الدین جی ابراہیم

چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ صوبہ بلوچستان ملک کے دیگر صوبوں سے کہیں زیادہ اہم ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ انھیں ایک موقع دیا جائے تاکہ ووٹ کے ذریعے پرامن طریقے سے ملک کو تبدیل کیا جاسکے۔

پاکستان کے چیف الیکشن کمشنر فخر الدین جی ابراہیم نے کہا ہے کہ صوبہ بلوچستان کے مسائل بندوق سے نہیں بلکہ ووٹ کے ذریعے حل کیے جا سکے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام بلوچوں کو انتخابات میں بھرپور حصہ لینا چاہیے۔

جمعرات کو کوئٹہ میں صوبے میں سیاسی و مذہبی جماعتوں کے نمائندوں سے ملاقات میں چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ پرامن، شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات ان کی ذمہ داری ہے اور اس سلسلے میں بلوچستان کے لوگوں کے تحفظات دور کرنے کے لیے یہاں آئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبہ بلوچستان ملک کے دیگر صوبوں سے کہیں زیادہ اہم ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ انھیں ایک موقع دیا جائے تاکہ ووٹ کے ذریعے پرامن طریقے سے ملک کو تبدیل کیا جاسکے۔

’’بندوق سے نہیں چلے گی بات، بیلٹ سے چلے گی، آگے بڑھنا ہے بیلٹ سے، بلٹ سے نہیں۔ تو آپ بتائیں ، ہم یہاں ہیں آپ کے مسائل حل کرنے کے لیے۔ ایک موقع تو دو ہمیں کہ ہم پرامن طریقے سے اس ملک کو تبدیل کریں اور یہ موقع آیا ہے اب۔‘‘

فخر الدین جی ابراہیم سے ملاقات کرنے والی سیاسی جماعتوں کے ارکان نے انھیں اپنی اپنی تجاویز بھی پیش کیں۔ انھوں نے ان نمائندوں کے مطالبے پر بلوچستان میں کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی آخری تاریخ میں دو دن کی توسیع کردی۔

چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ 2008ء کے انتخابات میں بلوچستان کی بعض جماعتوں نے حصہ نہیں لیا اور اس کے نتیجے میں ایک ایسی اسمبلی وجود میں آئی جس کا ہر رکن وزیر تھا۔ ان کے بقول یہ ایک مذاق معلوم ہوتا ہے لہذا تمام لوگ آئندہ انتخابات میں اپنی بھرپور شرکت کو یقینی بنائیں۔

اس سے قبل صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر ہونے والے ایک اجلاس میں فخر الدین جی ابراہیم کو صوبے کے چیف سیکرٹری، سیکرٹری داخلہ، انسپکٹر جنرل پولیس، فرنٹیئر کور کے سربراہ کے علاوہ خفیہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے بریفنگ دی۔

اجلاس میں انتخابات کے موقع پر سلامتی کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
XS
SM
MD
LG