رسائی کے لنکس

بلوچستان میں گورنر راج ’14 مارچ سے‘ پہلے ختم


وزیر اعظم اور گورنر بلوچستان ذوالفقار مگسی

وزیر اعظم اور گورنر بلوچستان ذوالفقار مگسی

وفاقی وزیر قانون کا کہنا ہے کہ صوبے میں عبوری حکومت کی تشکیل کے لیے وزیراعلیٰ اور حزب مخالف کی مشاورت ضروری ہے جس کے لیے صوبائی اسمبلی وزیر اعلیٰ کا انتخاب کرے گی۔

پاکستان کے جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں گورنر راج 14 مارچ سے قبل ختم کر دیا جائے گا اور صوبائی اسمبلی نئے وزیر اعلیٰ کا انتخاب کرے گی۔

وفاقی وزیر قانون فاروق نائیک نے جمعہ کو اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں عبوری حکومت کے قیام سے پہلے گورنر راج ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

جنوری کے وسط میں کوئٹہ کے علمدار روڈ پر ہونے والے دو بم دھماکوں میں 90 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں اکثریت شیعہ ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والوں کی تھی۔ ہلاک شدگان کے لواحقین نے صوبائی حکومت کی برطرفی اور شہر کو فوج کے حوالے کرنے کے مطالبات کے ساتھ لاشوں کے ہمراہ چار روز تک دھرنا دیا جس پر وزیراعظم کی سفارش پر صدر آصف علی زرداری نے صوبے میں دو ماہ کے لیے گورنر راج نافذ کردیا تھا۔

صوبائی حکومت کی برطرفی پر بلوچستان کی سیاسی جماعتوں کی طرف سے شدید ردعمل کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

وفاقی وزیر نائیک کا کہنا تھا کہ صوبے میں نگران حکومت کی تشکیل کے لیے وزیراعلیٰ اور حزب مخالف کی مشاورت بھی ضروری ہے اور اسی تناظر میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ گورنر راج میں توسیع نہیں کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان اسمبلی کے اسپیکر جلد ہی صوبائی اسمبلی کا اجلاس طلب کریں گے۔

صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد بھی امن و امان کی صورتحال میں بہتری نہیں آ سکی ہے اور گزشتہ ہفتے شیعہ ہزارہ برادری کے علاقے کیرانی روڈ پر ایک طاقتور ترین بم دھماکے میں 90 سے زائد افراد مارے گئے۔

اس واقعے کے بعد ایک بار پھر لواحقین نے شہر کو فوج کے حوالے کرنے کے مطالبے کے ساتھ لاشوں کی تدفین سے انکار کردیا تھا۔ اس بار شیعہ ہزارہ برادری کے اس احتجاج میں ملک کے دیگر شہروں میں بھی یکجہتی کے طور پر دھرنے دیئے گئے جس سے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے۔ تاہم رواں ہفتے وفاقی پارلیمانی وفد کے ساتھ مذاکرات کے بعد یہ دھرنے ختم ہو گئے اور میتوں کو دفن کردیا گیا۔

پاکستان کے اس صوبے میں حالیہ برسوں کے دوران پرتشدد واقعات خصوصاً شیعہ ہزارہ برادری پر حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور حکام ان میں سے اکثر کا الزام کالعدم بلوچ عسکریت پسندوں تنظیموں اور کالعدم مذہبی انتہا پسند گروپوں پر عائد کرتے آئے ہیں۔

پاکستانی فوج نے ایک روز قبل کہا تھا کہ ملک میں کسی بھی جگہ فوج تعینات کرنا حکومت کا صوابدیدی اختیار ہے جب کہ فوج حکومت کی ہدایت پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہے۔

ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ کا کہنا تھا کہ فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی نے بلوچستان میں شدت پسندوں کے خلاف کامیاب کارروائیوں کی تکمیل میں بہترین معاونت فراہم کی ہے۔
XS
SM
MD
LG